قومی زبان

جفاؤں کی نمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں

جفاؤں کی نمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں ستم گر کی ستائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں مجھے تنہائی پڑھنی ہے مگر خاموش لہجے میں یہی محفل کی خواہش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں مرے افکار پہ بولے بڑی تہذیب سے زاہد مقدر آزمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں یہ جو بے حال سا منظر یہ جو بیمار سے ہم ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ واحد یکتا بیاں سے گزرا ہے

ہمیشہ واحد یکتا بیاں سے گزرا ہے خدا کا ذکر جب اپنی زباں سے گزرا ہے لکیر کھینچ کے نور گماں سے گزرا ہے مجھے یقیں ہے کوئی آسماں سے گزرا ہے چمکتا رہتا ہے دونوں جہاں کی منزل پر وہ ایک شخص جو ہر امتحاں سے گزرا ہے بس اتنا بول رہی چارہ گر کی خاموشی بلا کا درد دل ناتواں سے گزرا ہے تو کیا ...

مزید پڑھیے

ابر باراں کا انتظار کیا

ابر باراں کا انتظار کیا جب کبھی دیدہ اشک بار کیا تم تو پھولوں کی راہ سے گزرے میں نے نے کانٹوں کو رہ گزار کیا ارتقائے یقیں کا ضامن ہوں جب سے امکاں پہ اعتبار کیا رکھ کر آپس میں اختلاف سدا ہم نے ایماں کو شرمسار کیا یوں تو حاکم بہت ہی آئے یہاں ختم کس نے پر انتشار کیا رب کا احسان ...

مزید پڑھیے

وفا خلوص کا سنگار روز کرتی ہے

وفا خلوص کا سنگار روز کرتی ہے یوں دھیرے دھیرے مری زندگی سنورتی ہے کوئی حیات زمانہ کو ہے عزیز بہت کوئی حیات ہے کہ روز روز مرتی ہے ترے چراغ کا فانوس خود ہوا ہے اور مرے چراغ سے ظالم ہوا گزرتی ہے تو پھر وجود امارت نظر کا ہے دھوکہ جب اینٹ اینٹ ہی تعمیر سے مکرتی ہے دعا یہ کیجیے ...

مزید پڑھیے

خاموش زباں سے جب تقریر نکلتی ہے

خاموش زباں سے جب تقریر نکلتی ہے لگتا ہے کہ پیروں سے زنجیر نکلتی ہے ٹوٹا ہوا بدھنا تھا شاید کہ وضو کا ہو ایسی بھی تو پرکھوں کی جاگیر نکلتی ہے جو داغ ہے سجدے کا پیشانیٔ مومن پر اس داغ سے ہو کر ہی تقدیر نکلتی ہے ملتی ہے خوشی سب کو جیسے ہی کہیں سے بھی بھولی ہوئی بچپن کی تصویر نکلتی ...

مزید پڑھیے

آزردہ نگاہوں پہ یہ منظر نہیں اترا

آزردہ نگاہوں پہ یہ منظر نہیں اترا صحرائے تصور میں کوئی گھر نہیں اترا جب مل گیا عرفان نظر مجھ کو خدا سے پھر کیوں مرے احساس سے محشر نہیں اترا دیکھا نہیں جس نے مرے طوفاں کو سکوں میں وہ شخص مری روح کے اندر نہیں اترا ظالم تو بہت ہیں مگر اب ان کو مٹانے پھر کوئی ابابیل کا لشکر نہیں ...

مزید پڑھیے

گزرے ہوئے لمحات کو اب ڈھونڈ رہا ہوں

گزرے ہوئے لمحات کو اب ڈھونڈ رہا ہوں میں اپنے مقدر میں غضب ڈھونڈ رہا ہوں سجدے کا سبب جان کے شیریں ہے پریشاں فرہاد نے کہہ ڈالا کے رب ڈھونڈ رہا ہوں وہ ہیں کہ نبھانے بھی لگے وصل کے آداب میں ہوں کہ تغافل کا سبب ڈھونڈ رہا ہوں ظالم مجھے پھر سیکڑوں غم دینے لگا ہے میں زندگی میں ایک خوشی ...

مزید پڑھیے

جو دولت ترقی رسائی بہت ہے

جو دولت ترقی رسائی بہت ہے تو آپس میں اس سے جدائی بہت ہے اگر تجھ میں الفت سمائی بہت ہے تو سن لو یہاں ہے وفائی بہت ہے کبھی درد ماں کو نہیں دو کہ اس کی ہر ایک آہ میں گہری کھائی بہت ہے خدا کی رضا ہے نہ حاصل کسی کو خدا کے لیے پر لڑائی بہت ہے محبت لٹائی ہے اپنو پہ بے حد مگر چوٹ اپنو سے ...

مزید پڑھیے

گر اقتدار سکوں اقتدار وحشت ہے

گر اقتدار سکوں اقتدار وحشت ہے تو پھر دیار محبت دیار وحشت ہے دراز ہو رہے امکاں بھی اب عبادت کے حصار بندگی گویا حصار وحشت ہے ہر ایک شخص ہے تصویر کامراں خود میں انا کی آب ہوا میں خمار وحشت ہے دوام پائے گا اک روز حق زمانے میں یہ انتظار نہیں انتظار وحشت ہے گلوں میں حسن نہیں اور چمن ...

مزید پڑھیے

بس رنج کی ہے داستاں عنوان ہزاروں

بس رنج کی ہے داستاں عنوان ہزاروں جینے کے لئے مر گئے انسان ہزاروں وہ جس نے مری روح کو درد آشنا رکھا ہیں مجھ پہ اسی زخم کے احسان ہزاروں جس خاک سے کہتے ہو وفا ہم نہیں کرتے سوئے ہیں اسی خاک میں سلطان ہزاروں اک رسم تکبر ہے سو اس دور کے انساں جیبوں میں لئے پھرتے ہیں پہچان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4739 سے 6203