جفاؤں کی نمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں
جفاؤں کی نمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں ستم گر کی ستائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں مجھے تنہائی پڑھنی ہے مگر خاموش لہجے میں یہی محفل کی خواہش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں مرے افکار پہ بولے بڑی تہذیب سے زاہد مقدر آزمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں یہ جو بے حال سا منظر یہ جو بیمار سے ہم ...