قومی زبان

کاواک

سب آنکھیں ٹانگوں میں جڑی ہیں ریڑھ کی ہڈی کے منکوں میں کان لگے ہیں ناف کے اوپر روئیں روئیں میں ایک زباں ہے پتلونیں ساری آوازیں سن لیتی ہیں دو پتلونیں جھگڑ رہی ہیں ''اتنی قیمت کیوں لیتی ہو تم میں ایسی کیا خوبی ہے'' کیسے گاہک ہو تم آخر مول بدن کا دے سکتے ہو پتی ورتا کا مول تمہارے پاس ...

مزید پڑھیے

عہد نامۂ امروز

اور پھر یوں ہوا دن کا اگلا پہر سبز زیتون کی چھاؤں میں کاٹ کر ابن آدم اٹھا اپنے اک ہاتھ میں سانپ اور دوسرے ہاتھ میں اک ممولا لیے عرش کی سمت جاتے ہوئے مڑ کے وادی کے لوگوں سے اس نے کہا ''مجھ پہ ایمان لاؤ خدا مر چکا ہے یہ افلاک و آفاق کا بار اب میرے شانوں پہ ہے مہر و ماہ و کواکب سبھی میرے ...

مزید پڑھیے

بین العدمین

یہ تضاد جان و جسد جسے تو وصال کہہ لے فراق میں تو نشاط کہہ لے مراق میں تو رواق کہہ لے کہ بحر و بر میں مذاق کہہ لوں کہ خیر و شر تیرے میرے کہنے میں کچھ نہیں کہ ترا یقین مرا گماں کہ مرا گمان ترا یقیں ترے درک و ہوش و حواس کی مرے وجد و وہم و قیاس کی یہی ایک پل تو اساس ہے یہی ایک پل ترے پاس ...

مزید پڑھیے

کنفشن

بس اتنی روداد ہے میری عشق میں خانہ خراب ہوا میں ان کی آنکھوں کا تھا اشارہ وقف جام و شراب ہوا میں ظلمت شام الم کم کرنے اپنے ہی گھر میں آگ لگا دی میں نے کفر جنوں کے ہاتھوں مملکت کونین گنوا دی درس وفا کو شہرت دے دی محفل محفل غزل سنا کر زخموں کے گلدستے بیچے گلی گلی آواز لگا کر دیس ...

مزید پڑھیے

نئے لوگ

وہ اب کے آئے تو سچ ان کے ساتھ تھا لیکن عجیب طرح کا بے درد سچ تھا کہتے تھے تمہارا جھوٹ ہے ننگا یہی تو اک سچ ہے ہم ان سے کہہ نہ سکے ہمارے اذن پہ جو قصر و بام اگاتا تھا وہ جن ہمیں میں تھا وہ مر چکا ہے ہم لیکن جئیں تو کیسے جئیں اور مریں تو کیسے مریں کہ تن برہنہ پڑے ہیں نہ جانے کون سا ہے دشت ...

مزید پڑھیے

بنام ابن آدم

اب تک تم سے کہا گیا ہے انساں فانی موت اٹل ہے جیون جل ہے جس کی دھار کبھی نہ ٹوٹے جو آتا ہے مر جاتا ہے جو آئے گا مر جائے گا میں تم سے کہنے آیا ہوں انساں لا فانی ہے امر ہے موت تغیر کا اک پل ہے جیون جل ہے جس کا کوئی انت نہیں ہے رہ جائے تو یہ ساگر ہے اور مر جائے تو بادل ہے

مزید پڑھیے

الف لیلیٰ کی آخری صبح

فسانہ کیسے بڑھے نہ کوئی ساحر پژ مردہ سن نہ سوداگر نہ چین سے کوئی آئے نہ باختر سے کوئی بلخ کے شہر میں اور قاف کے پرستاں میں کوئی پری نہ پری زاد کون آئے گا فسانہ کیسے بڑھے ولایتوں کے فرستاد گان عشق تو کیا کنار بحر پہ قزاق بھی نہیں کوئی عزا کنندۂ شب ہے نہ ہے پیامئ صبح نہ دشت رہ زد گاں ...

مزید پڑھیے

فصل رائیگاں

ہر برس ان دنوں میں کہیں بھی رہوں سلسلے ابر کے سست رو تیز رو قافلے ابر کے یوں ہی آتے ہیں قلزم لٹاتے ہوئے یوں ہی جاتے ہیں یہ ان کا دستور ہے لیکن اب کے برس میں اکیلا سر دشت تشنہ کھڑا ان کو رہ رہ کے آواز دیتا رہا مجھ کو بھی ساتھ لیتے چلو قافلہ چھٹ گیا ہے مرا سلسلے ابر کے قافلے ابر ...

مزید پڑھیے

رسول کاذب

رسول مصلوب کے دو ہزار برسوں کے بعد یہ واقعہ ہوا یہ اس زمانے کی بات ہے جب رسول خورشید راس الافلاک پر چمکتا تھا وہ اک زمستاں کی نیم شب کا سماں تھا وہ نیم شب اک رقیق چادر نہ جانے کب سے زمیں کے مردار کالبد پر پڑی ہوئی ہے اور اس کے مسموم روزنوں سے گلے سڑے جسم کا تعفن ابل رہا ہے شجر حجر ...

مزید پڑھیے

آئینے سے

آئنے کچھ تو بتا ان کا تو ہم راز ہے تو تو نے وہ زلف وہ مکھڑا وہ دہن دیکھا ہے ان کے ہر حال کا بے ساختہ پن دیکھا ہے وہ نہ خود دیکھ سکیں جس کو نظر بھر کے کبھی تو نے جی بھر کے وہ ہر خط بدن دیکھا ہے ان کی تنہائی کا دل دار ہے دم ساز ہے تو آئنے کچھ تو بتا ان کا تو ہم راز ہے تو کیا وہ شاعر کی طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4729 سے 6203