قومی زبان

چراغ حسرت و ارماں بجھا کے بیٹھے ہیں

چراغ حسرت و ارماں بجھا کے بیٹھے ہیں ہر ایک طرح سے خود کو جلا کے بیٹھے ہیں نہ کوئی راہ گزر ہے نہ کوئی ویرانہ غم حیات میں سب کچھ لٹا کے بیٹھے ہیں جنوں کی حد ہے کہ ہوش و خرد کی منزل ہے خبر نہیں ہے کہاں آج آ کے بیٹھے ہیں کبھی جو دل نے کہا اب چلو یہاں سے چلیں تو اٹھ کے عالم وحشت میں جا ...

مزید پڑھیے

دشت وفا میں ٹھوکریں کھانے کا شوق تھا

دشت وفا میں ٹھوکریں کھانے کا شوق تھا اب ہر قدم پہ اڑتی ہے کالی ہری ہوا تنہا کہاں ہوں گو کہ یہاں کوئی بھی نہیں مجھ سے لپٹ کے سوتا ہے سایہ خفا خفا ہیں گل مہر کے پیڑ بھی دریا بھی دھوپ بھی خاموش دیکھتا ہے ہر اک شے کو بے نوا جینے کی راہ چھوڑ کے آگے نکل گیا منزل پکارتی رہی جاتا ہے ...

مزید پڑھیے

درد دل آج بھی ہے جوش وفا آج بھی ہے

درد دل آج بھی ہے جوش وفا آج بھی ہے زخم کھانے کا محبت میں مزا آج بھی ہے گرمئ عشق نگاہوں میں نہیں ہے نہ سہی مسکراتی ہوئی آنکھوں میں حیا آج بھی ہے حسن پابند قفس عشق اسیر آلام زندگی جرم محبت کی سزا آج بھی ہے حسرتیں زیست کا سرمایہ بنی جاتی ہیں سینۂ عشق پہ وہ مشق جفا آج بھی ہے دامن ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے

کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے فصل گل آتے ہی اس طرح سے ویراں ہوں گے در بدر پھرتے رہے خاک اڑاتے گزری وحشت دل ترے کیا اور بھی احساں ہوں گے راکھ ہونے لگیں جل جل کے تمنائیں مگر حسرتیں کہتی ہیں کچھ اور بھی ارماں ہوں گے یہ تو آغاز مصائب ہے نہ گھبرا اے دل ہم ابھی اور ابھی اور ...

مزید پڑھیے

لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا

لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا جنہیں نہ ہوش ہو غم کا وہ غم کے مارے کیا مہکتے خون سے صحرا جلے ہوئے گلشن نظر فریب ہیں دنیا کے یہ نظارے کیا امید و بیم کی یہ کشمکش ہے راز حیات سکوں نواز ہیں اس کے سوا سہارے کیا کوئی ہزار مٹائے ابھرتے آئے ہیں ہم اہل درد جنون جفا سے ہارے کیا

مزید پڑھیے

کوئی حرف نفی نہ کام آیا (ردیف .. ی)

کوئی حرف نفی نہ کام آیا کتنی سچی تھی دوستی اپنی ٹھوکریں کھا کر کے سرخ رو ٹھہرا اک دعا ہے یہ زندگی اپنی اب کہاں ہے کوئی حریف اپنا خوب ڈرتی ہے بے کسی اپنی کیسے تاریخ کو بھلا ڈالوں خوں میں ڈوبی ہے یہ صدی اپنی کچھ نہ کھاتا ہوں کچھ نہ پیتا ہوں بھوکی سوتی ہے مفلسی اپنی خالی بوتل ...

مزید پڑھیے

عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے!

عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے! کھلی ہے آنکھ سمندر بھی ایک خواب سا ہے! ٹھہر ٹھہر کے بجاتا ہے کوئی سازینہ میں کیا کروں مرے سینے میں اک رباب سا ہے! بجھے گی پیاس مری زہر آگہی سے کبھی مرے دیار میں اس کا مزا شراب سا ہے! میں کیوں کسی سے سر راہ رہبری مانگوں؟ نئی ہے منزل غم اک یہی جواب سا ...

مزید پڑھیے

اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا

اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا یہ جو ہونٹوں پہ تبسم ہے کرم ہے اس کا ان کہی بات بھلا لکھوں تو لکھوں کیسے سادے کاغذ پہ کوئی راز رقم ہے اس کا فاصلے ایسے کہ اک عمر میں طے ہو نہ سکیں قربتیں ایسی کہ خود مجھ میں جنم ہے اس کا سنگ و آہن کا بڑا شہر بھی ویرانہ لگے یہ جنوں میرا ہے اور دشت ...

مزید پڑھیے

کیا کیا نہیں کیا مگر ان پر اثر نہیں

کیا کیا نہیں کیا مگر ان پر اثر نہیں شاید کہ اپنی سعئ جنوں کار گر نہیں گھبرا کے چاہتے ہیں کہ گردش میں ہم رہیں منزل کہیں نہ ہو کوئی ایسا سفر نہیں مل جائے ایک رات محبت کی زندگی پھر خواہش حیات ہمیں عمر بھر نہیں آوارگی میں لطف و اذیت کے باوجود ایسا نہیں ہوا ہے کہ فکر سحر نہیں

مزید پڑھیے

محفلوں میں جا کے گھبرایا کیے

محفلوں میں جا کے گھبرایا کیے دل کو اپنے لاکھ سمجھایا کیے یاس کی گہرائیوں میں ڈوب کر زخم دل سے خود کو بہلایا کیے تشنگی میں یاس و حسرت کے چراغ غم کدے میں اپنے جل جایا کیے خود فریبی کا یہ عالم تھا کہ ہم آئینہ دنیا کو دکھلایا کیے خون دل عنوان ہستی بن گیا ہم تو اپنے ساز پر گایا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4675 سے 6203