اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں
اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں کہنے کو آشیاں ہے مگر آشیاں نہیں عشق ستم نواز کی دنیا بدل گئی حسن وفا شناس بھی کچھ بدگماں نہیں میرے صنم کدے میں کئی اور بت بھی ہیں اک میری زندگی کے تمہیں راز داں نہیں تم سے بچھڑ کے مجھ کو سہارا تو مل گیا یہ اور بات ہے کہ میں کچھ شادماں نہیں اپنے ...