قومی زبان

اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں

اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں کہنے کو آشیاں ہے مگر آشیاں نہیں عشق ستم نواز کی دنیا بدل گئی حسن وفا شناس بھی کچھ بدگماں نہیں میرے صنم کدے میں کئی اور بت بھی ہیں اک میری زندگی کے تمہیں راز داں نہیں تم سے بچھڑ کے مجھ کو سہارا تو مل گیا یہ اور بات ہے کہ میں کچھ شادماں نہیں اپنے ...

مزید پڑھیے

اوروں پہ اتفاق سے سبقت ملی مجھے

اوروں پہ اتفاق سے سبقت ملی مجھے بھولے سے سرکشی کی روایت ملی مجھے غیروں کی دوستی سے کسے ہمدمی ملی سب سے بچھڑ کے اپنی رفاقت ملی مجھے شہروں میں بھی سراب کی تحریر پڑھ سکا نا بینا فلسفی کی بصارت ملی مجھے بس میرا ذکر آتے ہی محفل اجڑ گئی شیطاں کے بعد دوسری شہرت ملی مجھے دنیا میں روز ...

مزید پڑھیے

چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو

چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو رسوائیوں کی اپنی کہیں انتہا نہ ہو جوش وفا کا نام جنوں رکھ دیا گیا اے درد آج ضبط فغاں سے سوا نہ ہو یہ غم نہیں کہ تیرا کرم ہم پہ کیوں نہیں یہ تو ستم ہے تیرا کہیں سامنا نہ ہو کہتے ہیں ایک شخص کی خاطر جیے تو کیا اچھا یوں ہی سہی تو کوئی آسرا نہ ہو یہ ...

مزید پڑھیے

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے جیتا ہوں مصائب کی بقا میرے لیے ہے سچ بولنے والے کو ڈراتے ہو ستم سے رک جاؤ ٹھہر جاؤ جزا میرے لیے ہے افسوس کٹی عمر کتب خانوں میں لیکن یہ وسعت صحرا یہ فضا میرے لیے ہے میں راہ یگانہ پہ ہمیشہ سے چلا ہوں رسوائی تباہی تو سدا میرے لیے ہے مجرم ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہے

بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہے خلا میں وہ چاند ناچتا ہے زماں مکاں کا حصار کیا ہے بہک گئے تھے سنبھل گئے ہیں ستم کی حد سے نکل گئے ہیں ہم اہل دل یہ سمجھ گئے ہیں کشاکش روزگار کیا ہے ابھی نہ پوچھو کہ لالہ زاروں سے اٹھ رہا ہے دھواں وہ کیسا مگر یہ دیکھو کہ پھول بننے کا ...

مزید پڑھیے

ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے

ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے چھوٹی سی کوئی بات ہو لڑ جانا چاہئے خوابوں کی ایک ناؤ سمندر میں ڈال کے طوفاں کی موج موج سے ٹکرانا چاہئے ہر بات میں جو زہر کے نشتر لگائے ہیں ایسے ہی دل جلوں سے تو یارانہ چاہئے کیا زندگی سے بڑھ کے جہنم نہیں کوئی یہ سچ ہے پھر تو آگ میں جل جانا ...

مزید پڑھیے

اس درجہ ہوا خوش کہ ڈرا دل سے بہت میں (ردیف .. ا)

اس درجہ ہوا خوش کہ ڈرا دل سے بہت میں خود توڑ دیا بڑھ کے تمناؤں کا دھاگا تاکہ نہ بنوں پھر کہیں اک بندۂ مجبور ہاں قید محبت سے یہی سوچ کے بھاگا ٹھوکر جو لگی اپنے عزائم نے سنبھالا میں نے تو کبھی کوئی سہارا نہیں مانگا چلتا رہا میں ریت پہ پیاسا تن تنہا بہتی رہی کچھ دور پہ اک پیار کی ...

مزید پڑھیے

عشق کی ساری باتیں اے دل پاگل پن کی باتیں ہیں

عشق کی ساری باتیں اے دل پاگل پن کی باتیں ہیں زلف سیہ کے سائے میں بھی دار و رسن کی باتیں ہیں ویرانوں میں جا کے دیکھو کیسے کیسے پھول کھلے ہیں دیوانوں کے ہونٹوں پر اب سرو و سمن کی باتیں ہیں کل تک اپنے خون کے آنسو مٹی میں مل جاتے تھے آج اسی مٹی سے پیدا نظم چمن کی باتیں ہیں ٹھوکر ...

مزید پڑھیے

کون بھلا یہ کہتا ہے خود آ کے ہم کو منائیں آپ

کون بھلا یہ کہتا ہے خود آ کے ہم کو منائیں آپ ٹوٹا دل اب کیسے جڑے گا سچی قسمیں نہ کھائیں آپ پتھر سینے پر رکھ لیں گے جیتے جی جائیں گے آپ کو قاتل کون کہے گا کیوں ناحق گھبرائیں آپ راہ وفا پر چلتے چلتے اپنی عظمت بھول گئے تھے چھوڑی ہم نے رسم پرستش اب نہ کرم فرمائیں آپ سحر کیا اعجاز کیا ...

مزید پڑھیے

نئے سمے کی کوئل

پھیل رہی ہے چاروں جانب نئے سمے کی سندر خوشبو آنے والے کل کی قسمت نہ میں جانوں نہ جانے تو سبزہ رنگت تتلی جگنو جانے کب سے چمک رہے ہیں پیڑ کی ہر اک شاخ پہ آنسو اور اس پیڑ کی اک ڈالی پر کوئل کرتی جائے کو کو کوئل کرتی جائے کو کو دیکھتی جائے یونہی ہر سو وقت کو جاتے دیکھ رہی ہے اور یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4674 سے 6203