قومی زبان

اور کوئی جو سنے خون کے آنسو روئے (ردیف .. ن)

اور کوئی جو سنے خون کے آنسو روئے اچھی لگتی ہیں مگر ہم کو تمہاری باتیں ہم ملیں یا نہ ملیں پھر بھی کبھی خوابوں میں مسکراتی ہوئی آئیں گی ہماری باتیں ہائے اب جن پہ مسرت کا گماں ہوتا ہے اشک بن جائیں گی اک روز یہ پیاری باتیں یاد جب کوئی دلائے گا سر شام تمہیں جگمگا اٹھیں گی تاروں میں ...

مزید پڑھیے

سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا!

سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا! ہو سکے ملنے کی اک شام کبھی لکھ لینا! یوں تو ہم اہل جنوں کچھ بھی نہیں کرتے ہیں گمرہی کا ہی سہی کام کبھی لکھ لینا! مے گساروں پہ تڑپنے کی بھی پابندی ہے تشنہ کاموں کے لیے جام کبھی لکھ لینا! کتنی روشن ہیں سمندر کی چمکتی راتیں ڈوبتی لہروں کا انجام ...

مزید پڑھیے

تباہ ہو کے بھی اک اپنی آن باقی ہے

تباہ ہو کے بھی اک اپنی آن باقی ہے بغاوتوں کی تڑپ غم کی جان باقی ہے خلا میں ڈوب کے ہم کو بھی یہ ہوا معلوم کہ کچھ نہیں ہے مگر آسمان باقی ہے یہ مت کہو کہ لٹی کائنات درد تمام کہ زخم زخم یہ سارا جہان باقی ہے میں کیسے چھوڑ دوں ٹوٹے ہوئے در و دیوار شکستہ خواب کا تنہا مکان باقی ہے نہ ختم ...

مزید پڑھیے

وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے

وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے سرور چاہیئے وہ بھی کبھی کبھی کے لیے یہ کیا کہ بزم میں شمعیں جلا کے بیٹھے ہو کبھی ملو تو سر راہ دشمنی کے لیے اودھ کی شام رفیقوں کو مہ جبینوں کو ہر ایک چھوڑ کے آئے تھے بمبئی کے لیے مگر یہ کیا کہ بجز درد کچھ ہمیں نہ ملا عجیب شہر ہے یہ ایک ...

مزید پڑھیے

ایک لمحہ

آج اس شب کے سناٹے میں نیند نے آنکھیں پھیری ہیں شہر تھکا ہارا خاموشی کی باہوں میں سوتا ہے یہاں وہاں خوابوں کے قطرے شبنم بن کر گرتے ہیں کبھی کبھی کتوں کی آوازیں گلیوں سے اٹھتی ہیں سڑکوں پر دن کی رونق کے بھوت پریشاں پھرتے ہیں زخموں کی مانند حسیں جسموں پہ برستے ہیں سکے شیشوں کے ...

مزید پڑھیے

رو میں ہے رخش عمر

رہ گزر پر شور و غل کا سیل ہے بہہ رہا ہے خشک تنکے کی طرح یہ جہان رنگ و بو گھومتے پہیوں دھڑکتی گاڑیوں کی ہچکیاں داستاں در داستاں الجھی ہوئی ہیں چار سو درد سے سہمے ہوئے خوابوں کے لاکھوں قافلے گامزن ہیں سوئے حسرت حوصلے تھامے ہوئے میں بھی ان میں تم بھی ان میں ساری دنیا ان میں ہے خامشی ...

مزید پڑھیے

سرد، تاریک رات

اس قدر تیرہ و سرد ہرگز نہ تھا دل کا موسم کبھی ایک پل میں خدا جانے کیا ہو گیا چاند کی وادیوں میں اتر آئی شب! میں وہ تنہا سبک پا مسافر تھا تکمیل کی جستجو کھینچ لائی تھی اک روز جس کو یہاں آرزو تھی مجھے میں زمیں کے لیے میری طرار پرکار چشم نہاں فاصلوں سرحدوں وقت کے سب حصاروں کے اس پار ...

مزید پڑھیے

کیسا لمحہ آن پڑا ہے

کیسا لمحہ آن پڑا ہے ہنستا گھر ویران پڑا ہے بستر پر کچھ پھول پڑے ہیں آنگن میں گلدان پڑا ہے کرچی کرچی سپنے سارے دل میں اک ارمان پڑا ہے لوگ چلے ہیں صحراؤں کو اور نگر سنسان پڑا ہے اک جانب اک نظم کے ٹکڑے اک جانب عنوان پڑا ہے

مزید پڑھیے

جانے کیا سوچ کے گھر تک پہنچا

جانے کیا سوچ کے گھر تک پہنچا میں کہ معراج ہنر تک پہنچا اپنے کشکول میں حسرت لے کر اک گداگر ترے در تک پہنچا درد اٹھا تھا مرے پہلو میں آخر کار جگر تک پہنچا اک تباہی مرے دل پر اتری اک تماشا مرے گھر تک پہنچا اک دعا میرے لبوں تک آئی اک اثر اس کی نظر تک پہنچا جتنی آہیں مرے دل سے ...

مزید پڑھیے

کم کم رہنا غم کے سرخ جزیروں میں

کم کم رہنا غم کے سرخ جزیروں میں یہ جو سرخ جزیرے ہیں سب خونیں ہیں کم کم بہنا دل دریا کے دھارے پر یہ جو غم کے دھارے ہیں سب خونیں ہیں ہجر کی پہلی شام ہو یا ہو وصل کا دن جتنے منظر نامے ہیں سب خونیں ہیں ہر کوچے میں ارمانوں کا خون ہوا شہر کے جتنے رستے ہیں سب خونیں ہیں ایک وصیت میں نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4676 سے 6203