قومی زبان

خوف

سائے سائے جالے جالے خاموشی خاموشی سی ٹوٹی ٹوٹی الجھی الجھی بے خوابی بے خوابی سی حرفوں سے بچتا بچتا معنی سے چھپتا چھپتا رنگوں میں ڈوبا ڈوبا سانسوں میں ابھرا ابھرا ذروں میں چمکا چمکا لہروں میں سہما سہما تیز ہوا کے جھونکوں میں رک رک کر اڑتا اڑتا نشتر زہر محبت درد خون کے اک اک قطرے ...

مزید پڑھیے

اس نے کہا!

سائے بڑھنے لگے اور جیسے کہیں رات ہوئی دیر تک بیٹھے رہے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پھر دل زار نے چپکے سے انہیں چوم لیا ہونٹ تھرائے کہ کس طرح کی یہ بات ہوئی پیاری آنکھوں نے کہا ہم تو بہت ہیں مخمور کوئی ناشاد رہے ہم تو ابھی ہیں مسرور ذہن شاعر بھی تخیل میں ذرا جھوم لیا بات اتنی ہی ہوئی ...

مزید پڑھیے

ریت اور درد

مدتیں گزریں مرے دل کو ہوئے ویرانہ آندھیاں بھی نہیں آتیں کہ اڑے ریت مٹے نقش سراب اور اک درد کا چشمہ مندمل زخموں سے پھوٹے نئی خنکی لے کر پیاس جاگ اٹھے سکوت دل مضطر ٹوٹے تاکہ میں دیکھ سکوں اپنی بے خواب سی آنکھوں سے وہ منظر اک دن ریت کے تودے فضاؤں میں اڑے جاتے ہیں اور خوش ہو کے ...

مزید پڑھیے

دیمک

خون کا ہر اک قطرہ جیسے دیمک بن کر دوڑے ناکامی کے زہر کو چاٹے درد میں گھلتا جائے چھلنی جسم سے رستے لیکن ارمانوں کے رنگ جن کا روپ میں آنا مشکل اور جب بھی الفاظ میں ڈھل کر کاغذ پر بہہ نکلے خاکے تصویروں کے بنائے آنکھیں تارے ہاتھ شعاعیں دل ایک صدف ہے جس میں کتنے سچے موتی بھرے ہوئے ...

مزید پڑھیے

فریب کھا کے بھی شرمندۂ سکوں نہ ہوئے (ردیف .. ا)

فریب کھا کے بھی شرمندۂ سکوں نہ ہوئے نہ کم ہوا کسی منزل پہ ولولہ دل کا یہ سوچ کر تری محفل سے ہم چلے آئے کہ ایک بار تو بڑھ جائے حوصلہ دل کا پلٹ کے اب نہ کبھی لکھنؤ سے گزرے گا نکل گیا ہے بہت دور قافلہ دل کا حریف عشق کوئی ہو حریف غم تو نہیں کسی سے ہو نہ سکے گا مقابلہ دل کا کوئی کسی کا ...

مزید پڑھیے

بجھی بجھی ہے صدائے نغمہ کہیں کہیں ہیں رباب روشن

بجھی بجھی ہے صدائے نغمہ کہیں کہیں ہیں رباب روشن ٹھہر ٹھہر کے گرے ہیں آنسو بکھر بکھر کے ہیں خواب روشن سوال مبہوت سے کھڑے ہیں کہ جیسے سینوں میں دل نہیں ہیں افق کے اس پار جا کے دیکھو شکستہ مضطر جواب روشن وہ بیکسی ہے کہ العطش کی صدائیں خاموش ہو گئی ہیں کہاں ہے کوئی حسین یارو کہ ہر ...

مزید پڑھیے

جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا

جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا وہ کہیں بھی تو کامراں نہ رہا اس طرح کچھ بدل گئی ہے زمیں ہم کو اب خوف آسماں نہ رہا جانے کن مشکلوں سے جیتے ہیں کیا کریں کوئی مہرباں نہ رہا ایسی بیگانگی نہیں دیکھی اب کسی کا کوئی یہاں نہ رہا ہر جگہ بجلیوں کی یورش ہے کیا کہیں اپنا آشیاں نہ رہا مفلسی کیا ...

مزید پڑھیے

دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں

دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں اتنے ہم لائق جفا ہی نہیں آزما لو کہ دل کو چین آئے یہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں ہم پشیماں ہیں وہ بھی حیراں ہیں ایسا طوفاں کبھی اٹھا ہی نہیں جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں خوش وہ کیا ہوں گے جب خفا ہی نہیں تم نے اک داستاں بنا ڈالی ہم نے تو راز غم کہا ہی ...

مزید پڑھیے

ہزار چاہا لگائیں کسی سے دل لیکن (ردیف .. ا)

ہزار چاہا لگائیں کسی سے دل لیکن بچھڑ کے تجھ سے ترے شہر میں رہا نہ گیا کبھی یہ سوچ کے روئے کہ مل سکے تسکیں مگر جو رونے پہ آئے تو پھر ہنسا نہ گیا کبھی تو بھول گئے پی کے نام تک ان کا کبھی وہ یاد جو آئے تو پھر پیا نہ گیا سنایا کرتے تھے دل کو حکایت دوراں مگر جو دل نے کہا ہم سے وہ سنا نہ ...

مزید پڑھیے

کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے (ردیف .. ا)

کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے کہ آنسوؤں کے سوا اور کوئی کیا دے گا بہت ہوا تو تبسم کے چند پھولوں کو نگاہ شوخ کے ہاتھوں سے بے وفا دے گا چلے تو جاتے ہو روٹھے ہوئے مگر سن لو ہر ایک موڑ پہ کوئی تمہیں صدا دے گا عجیب منزل حیرت میں ہے جہان خراب کہ جیسے ہم سے دوانوں کو بھی سزا دے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4673 سے 6203