برسوں پڑھ کر سرکش رہ کر زخمی ہو کر سمجھا میں
برسوں پڑھ کر سرکش رہ کر زخمی ہو کر سمجھا میں ہر کوچہ ہے کوچۂ قاتل زخمی ہو کر سنبھلا میں طوفانی جذبوں سے بچ کر دور تلک کیسے جاتا؟ ایک جزیرہ بن کر آخر لہروں لہروں ٹھہرا میں کتنے آدرشوں کے شیشے رگ رگ میں آزار بنے لڑتے لڑتے تھک کر دیکھا سایہ تھا اور تنہا میں آئینہ کیا کس کو دکھاتا ...