قومی زبان

برسوں پڑھ کر سرکش رہ کر زخمی ہو کر سمجھا میں

برسوں پڑھ کر سرکش رہ کر زخمی ہو کر سمجھا میں ہر کوچہ ہے کوچۂ قاتل زخمی ہو کر سنبھلا میں طوفانی جذبوں سے بچ کر دور تلک کیسے جاتا؟ ایک جزیرہ بن کر آخر لہروں لہروں ٹھہرا میں کتنے آدرشوں کے شیشے رگ رگ میں آزار بنے لڑتے لڑتے تھک کر دیکھا سایہ تھا اور تنہا میں آئینہ کیا کس کو دکھاتا ...

مزید پڑھیے

دیوانگی کی راہ میں گم سم ہوا نہ تھا!

دیوانگی کی راہ میں گم سم ہوا نہ تھا! دنیا میں اپنا کوئی کہیں آشنا نہ تھا! دھڑکن کا درد جسم کو تڑپا کے رہ گیا رگ رگ میں ایک شور مسیحا بپا نہ تھا! اک کشمکش کے بعد تعلق نہیں رہا بیگانہ ہو کے ہم سے وہ لیکن خفا نہ تھا! دیوار و در پہ پردے لٹکتے تھے ہر طرف افلاس کونے کونے میں لیکن چھپا ...

مزید پڑھیے

گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے

گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے بے کسی کا ہم نوا اب تک وہی سایا تو ہے ٹوٹتی جاتی ہیں امیدوں کی زنجیریں مگر ٹھوکریں کھانے کو مجبوری کا اک صحرا تو ہے چاند کیا نکلے گا خوابوں کی اندھیری رات ہے دور تک تارا خیالوں کا مگر چمکا تو ہے بوڑھے سرکش زرگری میں رہزنوں کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

بہت ذی فہم ہیں دنیا کو لیکن کم سمجھتے ہیں!

بہت ذی فہم ہیں دنیا کو لیکن کم سمجھتے ہیں! عجب قصہ ہے سب کچھ جان کر مبہم سمجھتے ہیں ہوائیں تیز تر ہیں آج بادل آنے والے ہیں تڑپتے سرد جھونکوں کو بھی سب موسم سمجھتے ہیں زمیں کروٹ بدلتی ہے نئے رنگوں میں ڈھلتی ہے نجومی کس طرح دنیا کے پیچ و خم سمجھتے ہیں فلک غائب ہوا یہ چاند تارے ...

مزید پڑھیے

بہت ہے ایک نظر

قدم قدم پہ مجھے یہ خیال آتا ہے تری نظر کا سہارا ملے تو کیا کم ہے! خزاں میں رہ کے بہاروں کی آرزو نہ کروں جو زخم دل بھی مہک کر کھلے تو کیا کم ہے! ہزار چاک ہیں دامان زندگی کے مگر جو ایک چاک گریباں سلے تو کیا کم ہے! تمام تیرہ منازل سے میں گزر جاؤں جو ایک شمع محبت جلے تو کیا کم ہے! وہ گیت ...

مزید پڑھیے

میرا جنم دن

ذہن پہ اک گھٹا سی چھائی ہے لفظوں کی انجانی بوندیں برس رہی ہیں کوئی معنی شاید نکلیں؟ زخمی طائر میرے قلم سے لپٹ گیا اور اس کے پہلو میں اک ننھا سا تیر ہے تیر میں اک کاغذ بھی ہے اب کے میرے جنم دن پر کس نے مجھ کو یاد کیا ہے؟ میں نے کاغذ کھول کے دیکھا کچھ بھی نہ تھا صرف ٹوٹی ٹوٹی چند ...

مزید پڑھیے

ایک لمبی گونج

پورب دیس سے پھر اٹھی چیخ کی لمبی گونج قطرے بن کر برس پڑے ٹوٹے ٹوٹے بسمل لفظ کانوں میں نقارے باجے رگ رگ میں چنگاری دوڑی دبی دبی ساری آہیں ٹھنڈے سینوں میں ابھریں سوکھے ہونٹوں سے نکلیں بجھی بجھی سی آنکھوں میں دیکھ امنگوں کی بلی تڑپ تڑپ کے چمکے بجلی لہر لہر ٹکرائے طوفانوں کو ...

مزید پڑھیے

سزا

بھول جانا انہیں آسان ہے اے دل تو نے پہلے بھی کئی بار قسم کھائی ہے درد جب حد سے بڑھا ضبط کا یارا نہ رہا ان کی ایک ایک ادا یاد مجھے آئی ہے وہ تبسم میں نہاں طنز کے میٹھے نشتر وہ تکلم میں تغافل کو چھپانے کی ادا رک کے ہر لمحہ نئی طرح سے آغاز ستم جیسے کچھ کھو کے کسی چیز کو پانے کی ادا میری ...

مزید پڑھیے

جہنم

جب پاس نہیں کچھ بھی میرے خواہش مقصد آدرش کے ٹوٹے آئینے پھر گردش روز و شب کا مجھے احساس ہے کیوں کیا غم مجھ کو جب صبح کی کوئی فکر نہیں اور شام الم سے ڈر بھی نہیں وہ پاؤں میں اب چکر بھی نہیں سائے کی کوئی حاجت بھی نہیں اب موت کا کھٹکا کوئی خلش موہوم تمنا کا ارماں کچھ بھی تو نہیں پھر ...

مزید پڑھیے

الوداع

الوداع کیسے ماہ و سال گزرے اب نہ کچھ بھی یاد ہے صرف ہیں دھندلے نقوش یا بصارت کی کمی ہے کچھ نظر آتا نہیں بس کتابوں اور فلموں میں رہی اک بصیرت کی تلاش کچھ نہ کچھ روٹی کی بھی تھی جستجو جانے کس منزل کی تھی وہ آرزو بے سبب لوگوں سے یارانہ رہا اور پھر تنہا رہا برسوں تلک سب تھے قیدی اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4672 سے 6203