نروان
اک خوشبو درد سر کی مرجھائی کلیوں کو کھلائے جاتی ہے ذہن میں بچھو امیدوں کے ڈنک لگاتے ہیں ہچکی لے کر پھر خود ہی مر جاتے ہیں دل کی دھڑکن سچائی کے تلخ دھوئیں کو گہرا کرتی پیہم بڑھتی جاتی ہے پیٹ میں بھوک ڈکاریں لیتی رہتی ہے پھر رگ رگ میں سوئیاں بن کر بھاگی بھاگی پھرتی ہے پورے جسم میں ...