پھر اپنی تمناؤں کا دھاگا ٹوٹا
پھر اپنی تمناؤں کا دھاگا ٹوٹا ہاتھوں سے محبت کا وہ دامن چھوٹا پھر آ گیا رسوائی کا موسم یارو دل آبلہ تھا ایک نظر سے پھوٹا
پھر اپنی تمناؤں کا دھاگا ٹوٹا ہاتھوں سے محبت کا وہ دامن چھوٹا پھر آ گیا رسوائی کا موسم یارو دل آبلہ تھا ایک نظر سے پھوٹا
سڑکوں پہ تری پھرتا تھا مارا مارا دل غم سے ہوا جاتا تھا پارا پارا مانا کہ محبت کو ترستا ہی رہا لیکن نہ مصائب سے کبھی میں ہارا
جذبہ ہر اک اندام میں ڈھل سکتا ہے یہ سوز تمنا سے بھی جل سکتا ہے تاریک سہی راہ محبت لیکن چاہے اگر انساں تو سنبھل سکتا ہے
بیداری کا اک دور نیا آتا ہے وحشت کا بھی انداز بدل جاتا ہے اب اہل خرد خوش ہیں کہ دیوانہ بھی محفل میں نئی شمع جلا جاتا ہے
ٹوٹے شیشے کی آخری نظم بھاگتے وقت کو میں آج پکڑ لایا ہوں یہ مرا وقت مرے ذہن کی تخلیق سہی رات اور دن کے تسلسل کو پریشاں کر کے میں نے لمحات کو اک روپ دیا صبح کو رات کی زنجیر سے آزاد کیا خواب و بیدی کی دیوار گرا دی میں نے زندگی موت سے کب تک یوں ہراساں رہتی کیا ہوا وقت و حقیقت کا ...
یہ راہیں خود بخود پوچھیں گی تم سے کہاں تم جاؤ گے جب ہم نہ ہوں گے اشارے کون سمجھے گا تمہارے کسے سمجھاؤ گے جب ہم نہ ہوں گے ابھی اشکوں میں پنہاں ہے تبسم خوشی کیا پاؤ گے جب ہم نہ ہوں گے زمانہ توڑ دے گا شیشۂ دل بہت گھبراؤگے جب ہم نہ ہوں گے تغافل کی سزا تم کو ملے گی بہت پچھتاؤ گے جب ہم نہ ...
بے خوابی کی تیسری شب بے خوابی کی تیسری شب ہے دو آنکھیں چمک چمک کر مجھ سے باتیں کرتی ہیں میرے سرہانے اک سگریٹ پیتا اجلا اجلا سایہ انجانی خوشبو میں بسا اڑتا اڑتا آتا ہے چھوتے ہی کھو جاتا ہے بے خوابی کی تیسری شب ہے نئی کتابوں کے اوراق کیوں حرفوں سے خالی ہیں میں اپنی ڈائری میں لکھتا ...
یہ آنسو بے سبب بنتے نہیں ہیں انہیں تم صرف پانی کہہ کے مت ٹالو بہت سے حادثے آئے مگر یہ سونامی لہریں ہر آفت سے آگے ہیں ہمارے دل ہلا کر آنسوؤں کا سیل بن کر بہہ رہا ہے ہزاروں بے سہارا لوگ یوں بھی مرنے والے تھے مگر زیر زمیں پانی سمندر کی یہ لہریں جسم کے ٹکڑے کو مٹی بنا کر کھا گئی ہیں جسے ...
ایک چہل قدمی کے لیے گلی بنی سمندر کے پاس یہ پھولوں کی کلی بنی میں بھی بھولے سے یہاں آ جاتا ہوں میری عمر چلنے پھرنے گھومنے کی نہیں ہے عورتیں بچے اور دو اک بوڑھے بھی آتے ہیں میں یوں ہی کچھوے کی چال کی طرح آہستہ آہستہ آیا تھا اک جھاڑی کے پیچھے دو سائے ہم آغوش تھے ایک نے بہ آواز بلند ...
کوئی امیج کسی بات کا حسیں سایہ نئے پرانے خیالوں کا اک اچھوتا میل کسی کی یاد کا بھٹکا ہوا کوئی جگنو کسی کے نیلے سے کاغذ پہ چند ادھورے لفظ بغاوتوں کا پرانا گھسا پٹا نعرہ کسی کتاب میں زندہ مگر چھپی امید پرانی غزلوں کی اک راکھ بے دلی ایسی خود اپنے آپ سے الجھن عجیب بے زاری غرض کہ موڈ ...