مے خانے میں جانے کا یہ ہنگام نہیں
مے خانے میں جانے کا یہ ہنگام نہیں ہنگامہ اٹھانے کا یہ ہنگام نہیں ہاں غم کو امیدوں کا جنازہ نہ کہو اس غم کو مٹانے کا یہ ہنگام نہیں
مے خانے میں جانے کا یہ ہنگام نہیں ہنگامہ اٹھانے کا یہ ہنگام نہیں ہاں غم کو امیدوں کا جنازہ نہ کہو اس غم کو مٹانے کا یہ ہنگام نہیں
کہنے کو بہت اہل قلم آئے ہیں ہم سے مگر اس شہر میں کم آئے ہیں کیا بات ہے جچتی نہیں کوئی شے بھی کیا جانئے کیا سوچ کے ہم آئے ہیں
کیوں قہر خداوند مجازی سے ڈرو آزاد رہو بندہ نوازی سے ڈرو محمود کی الفت کا زمانہ یہ نہیں ڈرنا ہے تو پھر رسم ایازی سے ڈرو
ہر لحظہ دھڑکتا ہے دل خانہ خراب ہر لمحہ بجاتا ہے بغاوت کا رباب جینے کی مری عمر ہے جینے دو مجھے اس دور میں جینا بھی تو ہے کار ثواب
خاموشی پہ الزام لگایا نہ کرو بے وجہ محبت بھی جتایا نہ کرو ہم تم سے خفا ہو کے کہاں جائیں گے تم ہم کو کسی طرح منایا نہ کرو
یہ رات جدائی کی بہت روشن ہے پھیلا ہوا یادوں کا ابھی دامن ہے اس رات بھی اشکوں کے دیے جلتے ہیں شاید مرے خوابوں کا یہیں مدفن ہے
کیا گلہ اس کا جو میرا دل گیا مل گئے تم مجھ کو سب کچھ مل گیا جس کو آنکھیں ڈھونڈھتی تھیں پا گئیں دل کو جس کی جستجو تھی مل گیا اس گل رعنا نے ہنس کر بات کی غنچۂ خاطر ہمارا کھل گیا چھوڑ کر تو اس کو غیروں سے ملا خاک میں جو تیری خاطر مل گیا بن گئی ہر موج اک موج سراب تشنہ لب جب میں لب ساحل ...
کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئے جانانہ چاہئے در جانانہ چاہئے ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے بس اک نگاہ مرشد مے خانہ چاہئے حاضر ہیں میرے جیب و گریباں کی دھجیاں اب اور کیا تجھے دل دیوانہ چاہئے عاشق نہ ہو تو حسن کا گھر بے چراغ ہے لیلیٰ کو قیس شمع کو پروانہ چاہئے پروردۂ کرم سے ...
مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دے مگر اللہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دے قفس میں قید رکھ یا قید سے آزاد رہنے دے بہر صورت چمن ہی میں مجھے صیاد رہنے دے مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرت ہے تو میں ناشاد ہی اچھا مجھے ناشاد رہنے دے تری شان تغافل پر مری بربادیاں صدقے جو برباد ...
اگر کعبہ کا رخ بھی جانب مے خانہ ہو جائے تو پھر سجدہ مری ہر لغزش مستانہ ہو جائے وہی دل ہے جو حسن و عشق کا کاشانہ ہو جائے وہ سر ہے جو کسی کی تیغ کا نذرانہ ہو جائے یہ اچھی پردہ داری ہے یہ اچھی رازداری ہے کہ جو آئے تمہاری بزم میں دیوانہ ہو جائے مرا سر کٹ کے مقتل میں گرے قاتل کے قدموں ...