قومی زبان

پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا

پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا کسی بھی آئنے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا ہزاروں شیر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میں عجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ...

مزید پڑھیے

محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا

محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا تمام رشتوں کو میں گھر پہ چھوڑ آیا تھا پھر اس کے بعد مجھے کوئی اجنبی نہ ملا خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی ...

مزید پڑھیے

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی اجالوں کی پریاں نہانے لگیں ندی گنگنائی خیالات کی میں چپ تھا تو چلتی ہوا رک گئی زباں سب سمجھتے ہیں جذبات کی مقدر مری چشم پر آب کا برستی ہوئی رات برسات کی کئی سال سے کچھ خبر ہی نہیں کہاں دن گزارا کہاں رات کی

مزید پڑھیے

کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا

کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا وہ غزل کا لہجہ نیا نیا نہ کہا ہوا نہ سنا ہوا جسے لے گئی ہے ابھی ہوا وہ ورق تھا دل کی کتاب کا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا کہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا کئی میل ریت کو کاٹ کر کوئی موج پھول کھلا گئی کوئی پیڑ پیاس سے مر رہا ہے ندی کے پاس کھڑا ...

مزید پڑھیے

مسافر کے رستے بدلتے رہے

مسافر کے رستے بدلتے رہے مقدر میں چلنا تھا چلتے رہے مرے راستوں میں اجالا رہا دیے اس کی آنکھوں میں جلتے رہے کوئی پھول سا ہاتھ کاندھے پہ تھا مرے پاؤں شعلوں پہ جلتے رہے سنا ہے انہیں بھی ہوا لگ گئی ہواؤں کے جو رخ بدلتے رہے وہ کیا تھا جسے ہم نے ٹھکرا دیا مگر عمر بھر ہاتھ ملتے ...

مزید پڑھیے

سوچا نہیں اچھا برا دیکھا سنا کچھ بھی نہیں

سوچا نہیں اچھا برا دیکھا سنا کچھ بھی نہیں مانگا خدا سے رات دن تیرے سوا کچھ بھی نہیں سوچا تجھے دیکھا تجھے چاہا تجھے پوجا تجھے میری خطا میری وفا تیری خطا کچھ بھی نہیں جس پر ہماری آنکھ نے موتی بچھائے رات بھر بھیجا وہی کاغذ اسے ہم نے لکھا کچھ بھی نہیں اک شام کے سائے تلے بیٹھے رہے ...

مزید پڑھیے

سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے

سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے با وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے میں ترے ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوں کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے مجھ میں رہتا ہے کوئی دشمن جانی میرا خود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے بت بھی رکھے ہیں نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں دل میرا دل نہیں اللہ کا ...

مزید پڑھیے

اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا

اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا جو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا تصویر کو تصویر دکھائی نہیں جاتی اس آئنہ خانے میں نظر دنگ نہیں کیا ہے حلقۂ جاں اپنی وفاؤں کا تصور اس داغ سے آگے کوئی فرسنگ نہیں کیا ہر بات پہ ہم دیتے ہیں غیروں کا حوالہ اپنا کوئی آہنگ کوئی رنگ نہیں کیا بخشے ...

مزید پڑھیے

تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا

تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا بہت قریب سے آواز ایک آئی تھی مگر چلے تو بڑا فاصلہ نظر آیا یہ راستے کی لکیریں بھی گم نہ ہو جائیں وہ جھاڑیوں کا نیا سلسلہ نظر آیا یہ روشنی کی کرن ہے کہ آگ کا شعلہ ہر ایک گھر مجھے جلتا ہوا نظر آیا کلی کلی کی صدا گونجنے لگی ...

مزید پڑھیے

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو اس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہو ہر یاد ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہ یہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو موج صدائے دل پہ رواں ہے حصار زیست جس وقت تک ہے منہ میں زباں بولتے رہو اپنا لہو ہی رنگ ہے اپنی تپش ہی بو ہو فصل گل کہ دور خزاں بولتے رہو قدموں پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4658 سے 6203