قومی زبان

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہو جائے گا میں خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی اس میں ...

مزید پڑھیے

جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے

جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے یادوں کے دریچوں میں چلمن سی سرکتی ہے لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے یوں یاد تری شب بھر سینے میں سلگتی ہے یوں پیار نہیں چھپتا پلکوں کے جھکانے سے آنکھوں کے لفافوں میں تحریر چمکتی ہے خوش رنگ پرندوں کے لوٹ آنے کے دن آئے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں ...

مزید پڑھیے

اداسی آسماں ہے دل مرا کتنا اکیلا ہے

اداسی آسماں ہے دل مرا کتنا اکیلا ہے پرندہ شام کے پل پر بہت خاموش بیٹھا ہے میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے تمہارے شہر کے سارے دیے تو سو گئے کب کے ہوا سے پوچھنا دہلیز پہ یہ کون جلتا ہے اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ ...

مزید پڑھیے

مرے دل کی راکھ کرید مت اسے مسکرا کے ہوا نہ دے

مرے دل کی راکھ کرید مت اسے مسکرا کے ہوا نہ دے یہ چراغ پھر بھی چراغ ہے کہیں تیرا ہاتھ جلا نہ دے نئے دور کے نئے خواب ہیں نئے موسموں کے گلاب ہیں یہ محبتوں کے چراغ ہیں انہیں نفرتوں کی ہوا نہ دے ذرا دیکھ چاند کی پتیوں نے بکھر بکھر کے تمام شب ترا نام لکھا ہے ریت پر کوئی لہر آ کے مٹا نہ ...

مزید پڑھیے

اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا

اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہو گیا محلوں میں ہم نے کتنے ستارے سجا دیئے لیکن زمیں سے چاند بہت دور ہو گیا تنہائیوں نے توڑ دی ہم دونوں کی انا! آئینہ بات کرنے پہ مجبور ہو گیا دادی سے ...

مزید پڑھیے

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا ...

مزید پڑھیے

وہی تاج ہے وہی تخت ہے وہی زہر ہے وہی جام ہے

وہی تاج ہے وہی تخت ہے وہی زہر ہے وہی جام ہے یہ وہی خدا کی زمین ہے یہ وہی بتوں کا نظام ہے بڑے شوق سے مرا گھر جلا کوئی آنچ تجھ پہ نہ آئے گی یہ زباں کسی نے خرید لی یہ قلم کسی کا غلام ہے یہاں ایک بچے کے خون سے جو لکھا ہوا ہے اسے پڑھیں ترا کیرتن ابھی پاپ ہے ابھی میرا سجدہ حرام ہے میں یہ ...

مزید پڑھیے

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو ہوائیں تیز ...

مزید پڑھیے

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا نہ جانے کب ترے دل پر نئی سی دستک ہو مکان خالی ہوا ہے تو کوئی آئے گا میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوں اگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے ...

مزید پڑھیے

میری آنکھوں میں ترے پیار کا آنسو آئے

میری آنکھوں میں ترے پیار کا آنسو آئے کوئی خوشبو میں لگاؤں تری خوشبو آئے وقت رخصت کہیں تارے کہیں جگنو آئے ہار پہنانے مجھے پھول سے بازو آئے میں نے دن رات خدا سے یہ دعا مانگی تھی کوئی آہٹ نہ ہو در پر مرے جب تو آئے ان دنوں آپ کا عالم بھی عجب عالم ہے تیر کھایا ہوا جیسے کوئی آہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4657 سے 6203