قومی زبان

کسی کی یاد میں پلکیں ذرا بھگو لیتے

کسی کی یاد میں پلکیں ذرا بھگو لیتے اداس رات کی تنہائیوں میں رو لیتے دکھوں کا بوجھ اکیلے نہیں سنبھلتا ہے کہیں وہ ملتا تو اس سے لپٹ کے رو لیتے اگر سفر میں ہمارا بھی ہم سفر ہوتا بڑی خوشی سے انہی پتھروں پہ سو لیتے تمہاری راہ میں شاخوں پہ پھول سوکھ گئے کبھی ہوا کی طرح اس طرف بھی ہو ...

مزید پڑھیے

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں اور جام ٹوٹیں گے اس شراب خانے میں موسموں کے آنے میں موسموں کے جانے میں ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں فاختہ کی مجبوری یہ بھی کہہ نہیں سکتی کون سانپ رکھتا ہے اس کے ...

مزید پڑھیے

کہاں آنسوؤں کی یہ سوغات ہوگی

کہاں آنسوؤں کی یہ سوغات ہوگی نئے لوگ ہوں گے نئی بات ہوگی میں ہر حال میں مسکراتا رہوں گا تمہاری محبت اگر ساتھ ہوگی چراغوں کو آنکھوں میں محفوظ رکھنا بڑی دور تک رات ہی رات ہوگی پریشاں ہو تم بھی پریشاں ہوں میں بھی چلو مے کدے میں وہیں بات ہوگی چراغوں کی لو سے ستاروں کی ضو تک تمہیں ...

مزید پڑھیے

وہ اپنے گھر چلا گیا افسوس مت کرو

وہ اپنے گھر چلا گیا افسوس مت کرو اتنا ہی اس کا ساتھ تھا افسوس مت کرو انسان اپنے آپ میں مجبور ہے بہت کوئی نہیں ہے بے وفا افسوس مت کرو اس بار تم کو آنے میں کچھ دیر ہو گئی تھک ہار کے وہ سو گیا افسوس مت کرو دنیا میں اور چاہنے والے بھی ہیں بہت جو ہونا تھا وہ ہو گیا افسوس مت کرو اس ...

مزید پڑھیے

غزلوں کا ہنر اپنی آنکھوں کو سکھائیں گے

غزلوں کا ہنر اپنی آنکھوں کو سکھائیں گے روئیں گے بہت لیکن آنسو نہیں آئیں گے کہہ دینا سمندر سے ہم اوس کے موتی ہیں دریا کی طرح تجھ سے ملنے نہیں آئیں گے وہ دھوپ کے چھپر ہوں یا چھاؤں کی دیواریں اب جو بھی اٹھائیں گے مل جل کے اٹھائیں گے جب ساتھ نہ دے کوئی آواز ہمیں دینا ہم پھول سہی ...

مزید پڑھیے

ریت بھری ہے ان آنکھوں میں آنسو سے تم دھو لینا

ریت بھری ہے ان آنکھوں میں آنسو سے تم دھو لینا کوئی سوکھا پیڑ ملے تو اس سے لپٹ کے رو لینا اس کے بعد بہت تنہا ہو جیسے جنگل کا رستہ جو بھی تم سے پیار سے بولے ساتھ اسی کے ہو لینا کچھ تو ریت کی پیاس بجھاؤ جنم جنم کی پیاسی ہے ساحل پر چلنے سے پہلے اپنے پاؤں بھگو لینا میں نے دریا سے سیکھی ...

مزید پڑھیے

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں مرا لفظ لفظ ہو آئینہ تجھے آئنے میں اتار لوں میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر تیرے ساتھ شام گزار لوں اگر آسماں کی نمائشوں میں مجھے بھی اذن قیام ہو تو میں موتیوں کی دکان سے تری بالیاں ترے ہار ...

مزید پڑھیے

کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے

کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے کسی کی آنکھ میں رہ کر سنور گئے ہوتے سنگار دان میں رہتے ہو آئنے کی طرح کسی کے ہاتھ سے گر کر بکھر گئے ہوتے غزل نے بہتے ہوئے پھول چن لیے ورنہ غموں میں ڈوب کر ہم لوگ مر گئے ہوتے عجیب رات تھی کل تم بھی آ کے لوٹ گئے جب آ گئے تھے تو پل بھر ٹھہر گئے ...

مزید پڑھیے

یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے

یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے ابھی تجھ سے ملتا جلتا کوئی دوسرا کہاں ہے وہی شخص جس پہ اپنے دل و جاں نثار کر دوں وہ اگر خفا نہیں ہے تو ضرور بد گماں ہے کبھی پا کے تجھ کو کھونا کبھی کھو کے تجھ کو پانا یہ جنم جنم کا رشتہ ترے میرے درمیاں ہے مرے ساتھ چلنے والے تجھے کیا ملا سفر ...

مزید پڑھیے

مجھ سے بچھڑ کے خوش رہتے ہو

مجھ سے بچھڑ کے خوش رہتے ہو میری طرح تم بھی جھوٹے ہو اک دیوار پہ چاند ٹکا تھا میں یہ سمجھا تم بیٹھے ہو اجلے اجلے پھول کھلے تھے بالکل جیسے تم ہنستے ہو مجھ کو شام بتا دیتی ہے تم کیسے کپڑے پہنے ہو دل کا حال پڑھا چہرے سے ساحل سے لہریں گنتے ہو تم تنہا دنیا سے لڑو گے بچوں سی باتیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4656 سے 6203