قومی زبان

سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں

سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں بس ذرا وفا کم ہے تیرے شہر والوں میں پہلی بار نظروں نے چاند بولتے دیکھا ہم جواب کیا دیتے کھو گئے سوالوں میں رات تیری یادوں نے دل کو اس طرح چھیڑا جیسے کوئی چٹکی لے نرم نرم گالوں میں یوں کسی کی آنکھوں میں صبح تک ابھی تھے ہم جس طرح رہے شبنم پھول ...

مزید پڑھیے

اب تو انگاروں کے لب چوم کے سو جائیں گے

اب تو انگاروں کے لب چوم کے سو جائیں گے ہم وہ پیاسے ہیں جو دریاؤں کو ترسائیں گے خواب آئینے ہیں آنکھوں میں لیے پھرتے ہو دھوپ میں چمکیں گے ٹوٹیں گے تو چبھ جائیں گے صبح تک دل کے دریچوں کو کھلا رہنے دو درد گمراہ فرشتے ہیں کہاں جائیں گے نیند کی فاختہ سہمی ہوئی ہے آنکھوں میں تیر یادوں ...

مزید پڑھیے

اداس رات ہے کوئی تو خواب دے جاؤ

اداس رات ہے کوئی تو خواب دے جاؤ مرے گلاس میں تھوڑی شراب دے جاؤ بہت سے اور بھی گھر ہیں خدا کی بستی میں فقیر کب سے کھڑا ہے جواب دے جاؤ میں زرد پتوں پر شبنم سجا کے لایا ہوں کسی نے مجھ سے کہا تھا حساب دے جاؤ ادب نہیں ہے یہ اخبار کے تراشے ہیں گئے زمانوں کی کوئی کتاب دے جاؤ پھر اس کے ...

مزید پڑھیے

آہن میں ڈھلتی جائے گی اکیسویں صدی

آہن میں ڈھلتی جائے گی اکیسویں صدی پھر بھی غزل سنائے گی اکیسویں صدی بغداد دلی ماسکو لندن کے درمیاں بارود بھی بچھائے گی اکیسویں صدی جل کر جو راکھ ہو گئیں دنگوں میں اس برس ان جھگیوں میں آئے گی اکیسویں صدی تہذیب کے لباس اتر جائیں گے جناب ڈالر میں یوں نچائے گی اکیسویں صدی لے جا ...

مزید پڑھیے

کنور کی دو آنکھیں

نینی تال کلب میں مشاعرہ ہورہاتھا اور نظامت کررہے تھے جناب کنور مہندر سنگھ بیدی سحر۔ مشاعرے کے اختتام پر جب بشیر بدر اور وسیم بریلوی پڑھنے کے لئے باقی رہ گئے تو انہوں نے اپنی محبت کا اظہار کیا : ’’یہ میری دونوں آنکھیں ہیں ۔ میں کس کو پہلے بلاؤں اور کس کو بعد میں ۔‘‘ بشیربدر خود ...

مزید پڑھیے

عیب دار کی قربانی

جھریا (دھنباد) بہار میں جناب کنور مہندر سنگھ بیدی کی نظامت میں مشاعرہ ہورہا تھا۔مرحوم ناظرخیامی نے اپنے مزاحیہ کلام اور اس سے بھی بہتر گفتگو سے مشاعرہ لوٹ لیا۔ اس کے بعد کنور صاحب خود کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ ’’حضرات ناظرنے اپنے فن سے دلوں پر فتح پائی ہے ۔ آپ سب زندگی کی ...

مزید پڑھیے

خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے

خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے خطاوار سمجھے گی دنیا تجھے اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے غلامی کو برکت سمجھنے لگیں اسیروں کو ایسی رہائی نہ دے خدا ایسے احساس کا نام ہے رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

مزید پڑھیے

اب کسے چاہیں کسے ڈھونڈا کریں

اب کسے چاہیں کسے ڈھونڈا کریں وہ بھی آخر مل گیا اب کیا کریں ہلکی ہلکی بارشیں ہوتی رہیں ہم بھی پھولوں کی طرح بھیگا کریں آنکھ موندے اس گلابی دھوپ میں دیر تک بیٹھے اسے سوچا کریں دل محبت دین دنیا شاعری ہر دریچے سے تجھے دیکھا کریں گھر نیا کپڑے نئے برتن نئے ان پرانے کاغذوں کا کیا ...

مزید پڑھیے

بھیگی ہوئی آنکھوں کا یہ منظر نہ ملے گا

بھیگی ہوئی آنکھوں کا یہ منظر نہ ملے گا گھر چھوڑ کے مت جاؤ کہیں گھر نہ ملے گا پھر یاد بہت آئے گی زلفوں کی گھنی شام جب دھوپ میں سایہ کوئی سر پر نہ ملے گا آنسو کو کبھی اوس کا قطرہ نہ سمجھنا ایسا تمہیں چاہت کا سمندر نہ ملے گا اس خواب کے ماحول میں بے خواب ہیں آنکھیں جب نیند بہت آئے گی ...

مزید پڑھیے

کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی

کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا میری رات کیسے چمک گئی مری داستاں کا عروج تھا تری نرم پلکوں کی چھاؤں میں مرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تری آنکھ کیسے جھپک گئی بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4655 سے 6203