قومی زبان

جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں

جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں آسماں پر دماغ رکھتے ہیں ساقی بھر بھر انہیں کو دے ہے شراب جو کہ لبریز ایاغ رکھتے ہیں تیرے داغوں کی دولت اے گل رو ہم بھی سینے میں باغ رکھتے ہیں حاجت شمع کیا ہے تربت پر ہم کہ دل سا چراغ رکھتے ہیں آپ کو ہم نے کھو دیا ہے بیاںؔ آہ کس کا سراغ رکھتے ہیں

مزید پڑھیے

خوشبو کی طرح آیا وہ تیز ہواؤں میں

خوشبو کی طرح آیا وہ تیز ہواؤں میں مانگا تھا جسے ہم نے دن رات دعاؤں میں تم چھت پہ نہیں آئے میں گھر سے نہیں نکلا یہ چاند بہت بھٹکا ساون کی گھٹاؤں میں اس شہر میں اک لڑکی بالکل ہے غزل جیسی بجلی سی گھٹاؤں میں خوشبو سی اداؤں میں موسم کا اشارہ ہے خوش رہنے دو بچوں کو معصوم محبت ہے ...

مزید پڑھیے

بڑے تاجروں کی ستائی ہوئی

بڑے تاجروں کی ستائی ہوئی یہ دنیا دلہن ہے جلائی ہوئی بھری دوپہر کا کھلا پھول ہے پسینے میں لڑکی نہائی ہوئی کرن پھول کی پتیوں میں دبی ہنسی اس کے ہونٹوں پہ آئی ہوئی وہ چہرہ کتابی رہا سامنے بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی اداسی بچھی ہے بڑی دور تک بہاروں کی بیٹی پرائی ہوئی خوشی ہم ...

مزید پڑھیے

کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو

کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو وہ بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ صفت بھی عطا کرے تجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو مرے بازوؤں میں تھکی تھکی ابھی محو خواب ہے چاندنی نہ اٹھے ستاروں کی پالکی ابھی آہٹوں کا گزر ...

مزید پڑھیے

وہ غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں گے

وہ غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں گے چاند کہتے ہیں کسے خوب سمجھتے ہوں گے اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے میں سمجھتا تھا محبت کی زباں خوشبو ہے پھول سے لوگ اسے خوب سمجھتے ہوں گے دیکھ کر پھول کے اوراق پہ شبنم کچھ لوگ ترا اشکوں بھرا مکتوب ...

مزید پڑھیے

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے اداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے وہ سادگی نہ کرے کچھ بھی تو ادا ہی لگے وہ بھول پن ہے کہ بے باکی بھی حیا ہی لگے یہ زعفرانی پلوور اسی کا حصہ ہے کوئی جو دوسرا پہنے تو دوسرا ہی لگے نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ...

مزید پڑھیے

اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے

اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے وہ آئنہ ہے تو پھر آئنہ دکھائے مجھے عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوں میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے میں جس کی آنکھ کا آنسو تھا اس نے قدر نہ کی بکھر گیا ہوں تو اب ریت سے اٹھائے مجھے بہت دنوں سے میں ان پتھروں میں پتھر ہوں کوئی تو آئے ذرا دیر ...

مزید پڑھیے

گھر سے نکلے اگر ہم بہک جائیں گے

گھر سے نکلے اگر ہم بہک جائیں گے وہ گلابی کٹورے چھلک جائیں گے ہم نے الفاظ کو آئنہ کر دیا چھپنے والے غزل میں چمک جائیں گے دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے رفتہ رفتہ ہر اک زخم بھر جائے گا سب نشانات پھولوں سے ڈھک جائیں گے نام پانی پہ لکھنے سے کیا ...

مزید پڑھیے

وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایا ہے

وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایا ہے بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے کہاں سے آئی یہ خوشبو یہ گھر کی خوشبو ہے اس اجنبی کے اندھیرے میں کون آیا ہے مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے اسے ...

مزید پڑھیے

میں کب تنہا ہوا تھا یاد ہوگا

میں کب تنہا ہوا تھا یاد ہوگا تمہارا فیصلہ تھا یاد ہوگا بہت سے اجلے اجلے پھول لے کر کوئی تم سے ملا تھا یاد ہوگا بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں کوئی آنسو گرا تھا یاد ہوگا اداسی اور بڑھتی جا رہی تھی وہ چہرہ بجھ رہا تھا یاد ہوگا وہ خط پاگل ہوا کے آنچلوں پر کسے تم نے لکھا تھا یاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4654 سے 6203