قومی زبان

میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا

میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا گرد غم دل سے دھو نہیں سکتا اشک یوں تھم رہے ہیں مژگاں پر کوئی موتی پرو نہیں سکتا شب مرا شور گریہ سن کے کہا میں تو اس غل میں سو نہیں سکتا مصلحت ترک عشق ہے ناصح لیک یہ ہم سے ہو نہیں سکتا کچھ بیاںؔ تخم دوستی کے سوا مزرع دل میں بو نہیں سکتا

مزید پڑھیے

کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہو

کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہو پر وصل میں بھی لطف نہیں جو مدام ہو شکوہ کیا ہو میرے لب زخم نے کبھو تو مجھ پہ آب تیغ الٰہی حرام ہو صاحب تم اپنے منہ کو چھپاتے ہو مجھ سے کیوں ہے اس سے کیا حجاب جو اپنا غلام ہو منہ لگنے سے رقیب کے اب سر چڑھے ہیں سب کر ڈالے اس کو ذبح ابھی انتظام ہو مت ...

مزید پڑھیے

شاعری کے تارا مسیح اور امروہہ کے بھٹو

امروہہ میں مشاعرہ بہت سکون سے چل رہا تھا ۔ شاعر بھی مطمئن اور سننے والے بھی خوش کہ بیچ مجمع سے ایک بہت معقول شخصیت والے صاحب اٹھے اور کھڑے ہوکر عادل لکھنوی کی طرف اشارہ کرکے بولے۔ ’’ڈاکٹر صاحب،وہ شاعر جن کی صورت تارا مسیح(جس جلاد نے وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو ...

مزید پڑھیے

اعظم گڑھ کے سامعین ، بیکل ، وسیم اور بشیر کی پریشانی

اعظم گڑھ کے ایک قصبہ میں سامعین کا یہ موڈ ہوگیا کہ پرانی غزل پر پرانا کلام نہیں سنیں گے ۔بیکل اتساہی اور وسیم بریلوی جتنی غزلیں انہیں یاد تھیں‘ سب کا پہلا مصرعہ سنانے لگے اور مجمع سے آواز آتی رہی کہ سنی ہوئی ہے ۔ آخر کار ان لوگوں نے مہلت مانگی کہ جائے قیام سے اپنی اپنی بیاضیں لے ...

مزید پڑھیے

راحت کا رنگ

مؤناتھ بھنجن میں مشاعرہ ہورہا تھا ۔ بشیربدر نظامت کررہے تھے ۔ راحت اندوری ‘ جن کا رنگ گہرا سانولا سلونا ہے ، ان کی سرمستی کا دور تھا ، مائیک پر آتے ہی بولے۔ ’’حضرات !میں کل سے بہت خوش ہوں۔ دراصل اپنے رنگ کی وجہ سے شرمندہ شرمندہ رہتا تھا، لیکن بابو جگجیون رام نائب وزیر اعظم کی ...

مزید پڑھیے

عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے

عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے قہر ہے سحر ہے جادو ہے بلا ہے کیا ہے یار سے میری جو کرتے ہیں سفارش اغیار مکر ہے عذر ہے قابو ہے دغا ہے کیا ہے تجھ کو کس نام سے اے فخر مرے یاد کروں باپ ہے پیر ہے مرشد ہے خدا ہے کیا ہے تم جو بے وجہ سناتے ہو مری جان مجھے خوب ہے نیک ہے بہتر ہے بھلا ہے ...

مزید پڑھیے

کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا

کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا سوائے اس کے ان آنکھوں نے کیا نہیں دیکھا یہ لوگ منع جو کرتے ہیں عشق سے مجھ کو انھوں نے یار کو دیکھا ہے یا نہیں دیکھا بھلائی کیا دل کافر نے بت میں پائی ہے جہاں میں کوئی اتنا برا نہیں دیکھا کچھ اس جہاں میں نہ دیکھیں گے کیونکہ اندھے ہیں اسی جہاں میں ...

مزید پڑھیے

تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہا

تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہا تو بادشہ ہے جو مجھے تو نے کہا کہا دامن تیرے سے لگ لوں اگر دے رضا مجھے یہ ناتواں غبار اگر یاں رہا رہا رکھ آستیں شتاب مری چشم تر پہ جاں ورنہ پھرے ہے سیل میں عالم بہا بہا نکلے ہے لالہ خاک کے نیچے سے سرخ سرخ رنگیں ہوا شہیدوں کے خوں میں نہا نہا اب جی ...

مزید پڑھیے

لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیا

لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیا جو لیا اس کا عوض اس سے مجھے بہتر دیا دور تجھ سے ساغر مے پر نظر میں نے جو کی کاسہ اپنا چشم نے خوناب دل سے بھر دیا جو سلوک اب دل میں آویں کر مجھے تقدیر نے دست و بازو باندھ کر تیرے حوالے کر دیا دلبروں کے شہر میں بیگانگی اندھیر ہے آشنائی ڈھونڈتا ...

مزید پڑھیے

کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو

کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو مجھے نزدیک سے اپنے کبھو تو دور مت کیجو ہوئے سنگ جفا سے شیشۂ دل کے کئی ٹکڑے بس اب اس سے زیادہ اور چکناچور مت کیجو مرے مرہم گزار اس شوخ بے پروا سے یہ کہیو کہ ظالم زخم تازہ ہے اسے ناسور مت کیجو حقارت اپنے عاشق کی نہیں معشوق کو بھاتی بیاںؔ سعی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4653 سے 6203