قومی زبان

یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذ

یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذ بلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذ وہ کون دن ہے کہ غیروں کو خط نہیں لکھتا قلم کے بن کو لگے آگ اور جلے کاغذ تمام شہر میں تشہیر میرے بد خو نے پیام بر کو کیا باندھ کر گلے کاغذ بہا دوں ایسے کئی دفتر اشک کی رو میں کیے ہیں جمع ارے غافلو بھلے ...

مزید پڑھیے

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ ہیں اپنی اپنی جگہ مطمئن جہاں سب لوگ تصورات میں میرے ہے ایک ایسی جگہ گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ کیے ...

مزید پڑھیے

کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے

کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے مری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے دل خراب یہ خواہش تری عجب ہے کہ وہ ستم بھی کم نہ کرے اور مہرباں بھی رہے ابھی زمین پہ جنت نہیں بنی یارو جہاں کے قصے سناتے ہو ہم وہاں بھی رہے رہا ہمیشہ ہی سامان مختصر اپنا مسافروں کی طرح ہم رہے جہاں بھی ...

مزید پڑھیے

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو صورت حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر پھر مخاطب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو ہے وہی لا حاصلی دست ہنر کی منتظر آخرش سر پھوڑتا ہے کوہ کن کوئی بھی ہو شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصرؔ کا نشاں ڈھونڈتے ہیں ہم اسے ...

مزید پڑھیے

تھا جو کبھی اک شوق فضول

تھا جو کبھی اک شوق فضول اب ہے وہی اپنا معمول کیسے یاد رہی تجھ کو میری اک چھوٹی سی بھول غم برگد کا گھنا درخت خوشیاں ننھے ننھے پھول اب دل کو سمجھائے کون بات اگرچہ ہے معقول آنسو خشک ہوئے جب سے آنگن میں اڑتی ہے دھول

مزید پڑھیے

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ اب چلے دور جام آٹھ سے پانچ چاند ہے اور آسمان ہے صاف رہیے بالائے بام آٹھ سے پانچ اب تو ہم بن گئے ہیں ایک مشین اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ شعر کیا شاعری کے بارے میں سوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ کچھ خریدیں تو بھاؤ پانچ کے آٹھ اور بیچیں تو دام آٹھ سے ...

مزید پڑھیے

زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھے

زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھے تیری آنکھوں نے کیا آپ سا بیمار مجھے دل بجھا جائے ہے اغیار کی شورش پہ مرا سرد کرتی ہے تری گرمئ بازار مجھے عقل ہی موجب تکلیف ہوئی ہے ناداں کر گئی بے خبری آ کے خبردار مجھے تخت اور چتر سلاطیں کو مبارک ہووے بس ہے کوچے میں ترے سایۂ دیوار مجھے جوں ...

مزید پڑھیے

جادو تھی سحر تھی بلا تھی

جادو تھی سحر تھی بلا تھی ظالم یہ تری نگاہ کیا تھی کیدھر ہے کہاں ہے خوش دلی تو ہم سے بھی کبھو تو آشنا تھی شیریں بھی تجھی سی تھی ستم گر لیلیٰ بھی اگرچہ بے وفا تھی فرہاد پہ اس قدر نہ تھا ظلم مجنوں پہ نہ یہ غضب جفا تھی مارا ہے بیاںؔ کو جن نے اے شوخ کیا جانیے کون سی ادا تھی

مزید پڑھیے

جا کہے کوئے یار میں کوئی

جا کہے کوئے یار میں کوئی مر گیا انتظار میں کوئی چھوڑ سو کام آ پہنچ ساقی جاں بہ لب ہے خمار میں کوئی وہ بھی کیا رات تھی کہ سوتا تھا سر رکھے اس کنار میں کوئی مت گزر خاک پر شہیدوں کی چین لے ٹک مزار میں کوئی کیوں بیاںؔ سیر باغ کی رخصت نہیں دیتا بہار میں کوئی

مزید پڑھیے

شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں

شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں یا گلہ اے شوخ تیری بے وفائی کا کروں وہ کہ اک مدت تلک جس کو بھلا کہتا رہا آہ اب کس منہ سے ذکر اس کی برائی کا کروں آب زمزم سے میں دھو لوں اپنی پیشانی کے تئیں در پہ تب اس کے ارادہ جبہہ سائی کا کروں خوب سی تنبیہ کرنا اے جدائی تو مجھے گر کسی سے پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4652 سے 6203