قومی زبان

تختۂ مشق ستم مجھ کو بنانے والا

تختۂ مشق ستم مجھ کو بنانے والا تھا وہی روز مرے خواب میں آنے والا منتشر کر دیا شیرازۂ ہستی جس نے خانۂ دل کو مرے تھا وہ سجانے والا روز کرتا رہا وہ وعدۂ فردا مجھ سے عمر بھر عہد وفا تھا جو نبھانے والا اس نے منجدھار میں کشتی کو مری چھوڑ دیا تھا جو طوفان حوادث سے بچانے والا پہلے ...

مزید پڑھیے

میں سوز دروں اپنا دکھا بھی نہیں سکتا

میں سوز دروں اپنا دکھا بھی نہیں سکتا کیا مجھ پہ گزرتی ہے بتا بھی نہیں سکتا روشن ہے اسی سے مرا کاشانۂ ہستی اس شمع محبت کو بجھا بھی نہیں سکتا ہے بار سماعت اسے اظہار تمنا یہ حال زبوں اس کو سنا بھی نہیں سکتا زندہ ہے ضمیر اپنا ابھی، سامنے اس کے اپنا سر تسلیم جھکا بھی نہیں سکتا حد ...

مزید پڑھیے

وہ جلوہ گاہ ناز میں جس وقت آ گئے

وہ جلوہ گاہ ناز میں جس وقت آ گئے ناز و ادا سے ہوش سبھی کے اڑا گئے دل میں وہ آ کے حسرت و ارماں جگا گئے امید کے چراغ جلا کر بجھا گئے اس طرح اپنا جلوۂ زیبا دکھا گئے آ کر نگاہ شوق سے دل میں سما گئے نخل مراد پھولوں سے میرا سجا گئے وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے کب تک یوں ہی دکھائیں ...

مزید پڑھیے

روئے زیبا کو دکھاتے ہیں چلے جاتے ہیں

روئے زیبا کو دکھاتے ہیں چلے جاتے ہیں کیوں نظر مجھ سے ملاتے ہیں چلے جاتے ہیں حسرت دل مری رہ جاتی ہے دل ہی میں مرے فرض کیا ایسے نبھاتے ہیں چلے جاتے ہیں آپ سے ایسی توقع نہ کبھی تھی مجھ کو شمع امید بجھاتے ہیں چلے جاتے ہیں کچھ تو آداب محبت کا کریں پاس و لحاظ کیا یوں ہی دل کو لگاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

امن و صلح و آشتی ہو جیسے بیماری کا نام

امن و صلح و آشتی ہو جیسے بیماری کا نام ہے سیاست عہد نو میں ایک عیاری کا نام ان کا ظاہر اور باطن دیکھ کر ایسا لگا پارسائی جیسے ہو شاید ریاکاری کا نام جو زمانہ ساز ہیں، ہیں سب کے منظور نظر ہے تغزل میں ترنم آج فن کاری کا نام گردش حالات سے ہے بند جن کا ناطقہ وہ زبان حال سے لیتے ہیں ...

مزید پڑھیے

در بدر پھرتا تھا جب تب تجھے آباد کیا

در بدر پھرتا تھا جب تب تجھے آباد کیا کیا بگاڑا تھا ترا کیوں مجھے برباد کیا جس طرح کرتا ہے تو خون تمنا میرا کیا کبھی میں نے بھی ایسے تجھے ناشاد کیا زخم جو تو نے دئے تھے ہیں ابھی تک تازہ جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا اس سے بہتر تھا کہ تو قید ہی رکھتا مجھ کو پر کتر کر مرا کیوں ...

مزید پڑھیے

مشتہر نام کرو تم مرا اخباروں میں

مشتہر نام کرو تم مرا اخباروں میں میں تو شامل ہوں محبت کے گنہ گاروں میں مر کے بھی زندۂ جاوید ہیں فن کار عظیم جو نظر آتے ہیں تاریخ کے شہ پاروں میں وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں جن کے اطوار مجھے شامل نہ کرو ایسے قلم کاروں میں لوگ اب گھر سے نکلتے ہوئے یوں ڈرتے ہیں نذر دہشت کہیں ہو جائیں ...

مزید پڑھیے

وہ ہیں آج بالائے بام اللہ اللہ

وہ ہیں آج بالائے بام اللہ اللہ مئے عشق کا لے کے جام اللہ اللہ مجھے کر دیا خود سے بے خود انہوں نے نگاہوں سے دے کر پیام اللہ اللہ یہ میرے لئے مژدۂ جاں فزا ہے ملیں گے وہ اب صبح و شام اللہ اللہ نہ ہوگا تمہیں تشنہ کامی کا شکوہ وہ دے کر گئے یہ پیام اللہ اللہ رہیں اپنے وعدے پہ ثابت قدم ...

مزید پڑھیے

تم آ رہے ہو کہ جا رہے ہو

تم آ رہے ہو کہ جا رہے ہو بتاؤ کیوں مسکرا رہے ہو یہ کیسا جلوہ دکھا رہے ہو نگاہ و دل میں سما رہے ہو کرو گے کیا خاک خانۂ دل نظر سے بجلی گرا رہے ہو ملے گا کیا ایسا کر کے تم کو کیوں مجھ کو ناحق ستا رہے ہو ہے عارضی کر و فر تمہارا یہ جشن جو تم منا رہے ہو منائے گا خیر اپنی کب تک جسے تم اب ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر اس کو نہیں ہوش میں آیا جاتا

دیکھ کر اس کو نہیں ہوش میں آیا جاتا خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا اس کے دیدار کی پیاسی تھیں نگاہیں اس کی کاش بیمار محبت نہ ستایا جاتا ہم تو ہر حال میں راضی بہ رضا تھے لیکن مان جاتا بہ خوشی وہ تو منایا جاتا جس نے نا وقت بجھا دی مری شمع امید مجھ سے وہ وعدہ شکن کیسے بھلایا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4633 سے 6203