تم آ رہے ہو کہ جا رہے ہو

تم آ رہے ہو کہ جا رہے ہو
بتاؤ کیوں مسکرا رہے ہو


یہ کیسا جلوہ دکھا رہے ہو
نگاہ و دل میں سما رہے ہو


کرو گے کیا خاک خانۂ دل
نظر سے بجلی گرا رہے ہو


ملے گا کیا ایسا کر کے تم کو
کیوں مجھ کو ناحق ستا رہے ہو


ہے عارضی کر و فر تمہارا
یہ جشن جو تم منا رہے ہو


منائے گا خیر اپنی کب تک
جسے تم اب تک بچا رہے ہو


لہو پکارے گا آستیں کا
جو قتل کر کے چھپا رہے ہو


جہاں میں کر دے گا تم کو رسوا
جو ظلم برقیؔ پہ ڈھا رہے ہو