در بدر پھرتا تھا جب تب تجھے آباد کیا

در بدر پھرتا تھا جب تب تجھے آباد کیا
کیا بگاڑا تھا ترا کیوں مجھے برباد کیا


جس طرح کرتا ہے تو خون تمنا میرا
کیا کبھی میں نے بھی ایسے تجھے ناشاد کیا


زخم جو تو نے دئے تھے ہیں ابھی تک تازہ
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا


اس سے بہتر تھا کہ تو قید ہی رکھتا مجھ کو
پر کتر کر مرا کیوں باغ میں آزاد کیا


زندگی کھیل نہیں ہے جسے بچوں کی طرح
کبھی آباد کیا اور کبھی برباد کیا


زیب دیتا ہے تجھے مفسد دوراں کا خطاب
ناروا تھا جو وہ کیوں اے ستم ایجاد کیا


باغباں جس کو بنایا تھا اسی نے برقیؔ
صحن‌ گلشن میں بپا نالہ و فریاد کیا