قومی زبان

فریاد ہے اب لب پر جب اشک فشانی تھی

فریاد ہے اب لب پر جب اشک فشانی تھی یہ اور کہانی ہے وہ اور کہانی تھی اب دل میں رہا کیا ہے جز حسرت و ناکامی وہ نیش کہاں باقی خود جس کی نشانی تھی جب درد سا تھا دل میں اب درد ہی خود دل ہے ہاں اب جو حقیقت ہے پہلے یہ کہانی تھی پر آب سی رہتی تھیں پہلے یہ مری آنکھیں ہاں ہاں اسی دریا میں ...

مزید پڑھیے

تم سے شکایت کیا کروں

ہوتا جو کوئی دوسرا کرتا گلہ میں درد کا تم تو ہو دل کا مدعا تم سے شکایت کیا کروں دیکھو ہے بلبل نالہ زن کہتی ہے احوال چمن میں چپ ہوں گو ہوں پر محن تم سے شکایت کیا کروں مانا کہ میں بے ہوش ہوں پر ہوش ہے پرجوش ہوں یہ سوچ کر خاموش ہوں تم سے شکایت کیا کروں تم سے تو الفت ہے مجھے تم سے ...

مزید پڑھیے

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب صحن چمن میں کلیاں کھل کر پھول کی صورت ہوتی ہیں اور اپنی مہک سے ہر دل میں اک تخم لطافت بوتی ہیں تم یاد مجھے آ جاتے ہو تم یاد مجھے آ جاتے ہو جب برکھا کی رت آتی ہے جب کالی گھٹائیں اٹھتی ہیں جس وقت کہ رندوں کے دل سے ہو حق کی صدائیں اٹھتی ہیں تم یاد مجھے آ ...

مزید پڑھیے

برسوں غم گیسو میں گرفتار تو رکھا

برسوں غم گیسو میں گرفتار تو رکھا اب کہتے ہو کیا تم نے مجھے مار تو رکھا کچھ بے ادبی اور شب وصل نہیں کی ہاں یار کے رخسار پہ رخسار تو رکھا اتنا بھی غنیمت ہے تری طرف سے ظالم کھڑکی نہ رکھی روزن دیوار تو رکھا وہ ذبح کرے یا نہ کرے غم نہیں اس کا سر ہم نے تہہ خنجر خوں خوار تو رکھا اس عشق ...

مزید پڑھیے

خود محبت درد ہے اور درد کا درماں بھی ہے

خود محبت درد ہے اور درد کا درماں بھی ہے ہے یہ وہ مشکل کہ مشکل بھی ہے اور آساں بھی ہے عاشق ابروئے جاناں عاشق مژگاں بھی ہے دل میں شوق تیغ ہے ذوق لب پیکاں بھی ہے میرے گھر آئیں گے وہ لایا ہے مژدہ نامہ بر یہ پیام زیست بھی ہے موت کا ساماں بھی ہے سچ بتا پروانہ کس کی آتش الفت ہے تیز کون ...

مزید پڑھیے

ہم ترے بندے ہمارا تو خدا وند کریم

ہم ترے بندے ہمارا تو خدا وند کریم دست قدرت میں ترے دونوں جہاں کی تنظیم بن ترے حکم کی پتہ نہیں ہلتا ہرگز اذن سے تیرے ہی چلتی ہے زمانہ میں نسیم تجھ سے پوشیدہ نہیں راز کسی کا کوئی کہ تری ذات ہے اسرار نہانی کی علیم کر دیئے برقؔ تجلی نے مگر حوصلے پست تم کو واللہ بڑی دور کی سوجھی تھی ...

مزید پڑھیے

بیاض دل

بیاض دل کو جو کھولیں تو جستجو ہوگی ہر ایک صفحۂ ہستی کی گفتگو ہوگی انہیں یہ ضد کہ نہ آؤ ہماری محفل میں ہمیں گماں رہا کچھ تو وفا کی خو ہوگی اسی سبب سے تھا اے نامہ بر تجھے روکا کہ اب تو بات جو ہوگی وہ روبرو ہوگی مزاج ان کا سمجھنا کسی کے بس میں نہیں وفا کی بات پر ایسی بھی تم سے تو ...

مزید پڑھیے

جستجو

تصور میں سارے جہاں دیکھتی ہوں مکیں دیکھتی ہوں مکاں دیکھتی ہوں بھٹکتی پھری سارے عالم میں ہر سو جہاں میں نہیں ہوں وہاں دیکھتی ہوں چمکتے ستاروں میں دیکھا ہے اس کو میں جھرنوں میں اس کو نہاں دیکھتی ہوں کبھی چاند سورج کی کرنوں میں ڈھونڈا وہاں رنگ برنگ کہکشاں دیکھتی ہوں کبھی اس کو ...

مزید پڑھیے

دل کے ہر داغ کو سینے سے لگائے رکھئے

دل کے ہر داغ کو سینے سے لگائے رکھئے خانۂ دل میں یہ فانوس جلائے رکھئے زندگی وقت کے سانچے میں ڈھلی جاتی ہے دیدہ و دل کو قرینے سے سجائے رکھئے شام غم کا جو فسانہ تھا وہ اب ختم ہوا صبح امید کا ماحول بنائے رکھئے اپنے اخلاص و محبت کے ہیں قائل سب لوگ زندگانی کا یہی رنگ جمائے رکھئے میں ...

مزید پڑھیے

ساقی سے نہیں بڑھ کے کوئی نبض شناس اور

ساقی سے نہیں بڑھ کے کوئی نبض شناس اور برسات میں دے دیتا ہے دو چار گلاس اور دل میں ہو اگر سوز تمنا کی حرارت ارمان کی تائید میں بڑھ جاتی ہے آس اور جب اونگھنے لگتی ہے ارادوں کی جوانی ہستی کے سمن زار بھی ہوتے ہیں اداس اور ہے روپ کہ بہروپ ہے انسان کا یہ بھی ہندو کا لباس اور ہے مسلم کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4624 سے 6203