قومی زبان

جس نے جانا جہاں تماشا ہے

جس نے جانا جہاں تماشا ہے اس کی ٹھوکر میں یہ زمانہ ہے بے غرض ہار جیت سے جو ہو زندگی اس کی فاتحانہ ہے فکر جو خود گرفت میں رکھے اس کا انداز شاعرانہ ہے گرم رکھتا ہے جو خودی اپنی بے نیازی سے وہ شناسا ہے دو ہی پل کا ہے کھیل سارا صباؔ بعد میں خاک سب کو ہونا ہے

مزید پڑھیے

سوز فراق دل میں چھپائے ہوئے ہیں ہم

سوز فراق دل میں چھپائے ہوئے ہیں ہم اور لب پہ اک سکوت سجائے ہوئے ہیں ہم جو آشنا نہیں ہیں محبت کی آنچ سے کیوں آس ان سے پھر بھی لگائے ہوئے ہیں ہم شعلے جو بجھ چکے ہیں انہیں تم ہوا نہ دو دل میں ہی ایک آگ لگائے ہوئے ہیں ہم توبہ رے ان کی سنگ دلی اور شوق دید کیا خوب حال اپنا بنائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

بے قراری دل مضطر کی بڑھائی ہم نے

بے قراری دل مضطر کی بڑھائی ہم نے آج پھر تم سے کوئی آس لگائی ہم نے مشکلیں راہ وفا میں بھی بنائیں آساں رسم الفت تو بہ ہر طور نبھائی ہم نے شاید آ جاؤ کسی روز کبھی لوٹ کے تم بس اسی آس میں ہر راہ سجائی ہم نے تم کبھی تھے نہ ہمارے نہ کبھی ہو گے صنم یہ سمجھنے میں بہت دیر لگائی ہم نے ہائے ...

مزید پڑھیے

عشق میں کوئی زماں اور نہ مکاں ہوتا ہے

عشق میں کوئی زماں اور نہ مکاں ہوتا ہے وہ دو عالم سے الگ ایک جہاں ہوتا ہے کس قدر ان کی طبیعت پہ گراں ہوتا ہے جس فسانے میں وفاؤں کا بیاں ہوتا ہے شدت شوق کا اللہ رے فسوں اف رے فریب ان کی نفرت پہ محبت کا گماں ہوتا ہے صرف اک دل ہی وہ معبد ہے وہ اک معبد عشق جس میں ناقوس ہم آواز اذاں ہوتا ...

مزید پڑھیے

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے کیا اہل جہاں تجھ کو ستم گر نہیں کہتے کہتے تو ہیں لیکن ترے منہ پر نہیں کہتے کعبے میں مسلمان کو کہہ دیتے ہیں کافر بت خانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے رندوں کو ڈرا سکتے ہیں کیا حضرت واعظ جو کہتے ہیں اللہ ...

مزید پڑھیے

اب عشق رہا نہ وہ جنوں ہے

اب عشق رہا نہ وہ جنوں ہے طوفان کے بعد کا سکوں ہے احساس کو ضد ہے درد دل سے کم ہو تو یہ جانیے فزوں ہے راس آئی ہے عشق کو زبونی جس حال میں دیکھیے زبوں ہے باقی نہ جگر رہا نہ اب دل اشکوں میں ہنوز رنگ خوں ہے اظہار ہے درد دل کا بسملؔ الہام نہ شاعری فسوں ہے

مزید پڑھیے

گزر کے عشق کی حد سے بھی کچھ یہ عالم ہے

گزر کے عشق کی حد سے بھی کچھ یہ عالم ہے کہ جیسے عشق ابھی ان کے حسن سے کم ہے عدو کا گھر ہے تری راہ میں تو کیا غم ہے سنا ہے خلد کے رستے میں بھی جہنم ہے یہ وقت کل نہ رہے گا رہیں گے یاد یہ دن ستم کی عمر زیادہ ہے زندگی کم ہے وہ اپنے ظلم سے خود بھی نہ رہ سکے محفوظ جبیں پر آج نہ بل ہے نہ زلف ...

مزید پڑھیے

اب رہا کیا ہے جو اب آئے ہیں آنے والے

اب رہا کیا ہے جو اب آئے ہیں آنے والے جان پر کھیل چکے جان سے جانے والے یہ نہ سمجھے تھے کہ یہ دن بھی ہیں آنے والے انگلیاں ہم پہ اٹھائیں گے اٹھانے والے کون سمجھائے نہ اٹھلا کے سر رہ چلیے ہیں یہ انداز گنہ گار بنانے والے پوچھنے تک کو نہ آیا کوئی اللہ اللہ تھک گئے پاؤں کی زنجیر بجانے ...

مزید پڑھیے

نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے

نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے خدا کے واسطے دیکھو نہ مسکرا کے مجھے سوائے داغ ملا کیا چمن میں آ کے مجھے قفس نصیب ہوا آشیاں بنا کے مجھے ادب ہے میں جو جھکائے ہوئے ہوں آنکھ اپنی غضب ہے تم جو نہ دیکھو نظر اٹھا کے مجھے الٰہی کچھ تو ہو آسان نزع کی مشکل دم اخیر تو تسکین دے وہ آ کے ...

مزید پڑھیے

سوچنے کا بھی نہیں وقت میسر مجھ کو

سوچنے کا بھی نہیں وقت میسر مجھ کو اک کشش ہے جو لئے پھرتی ہے در در مجھ کو اپنا طوفاں نہ دکھائے وہ سمندر مجھ کو چار قطرے نہ ہوئے جس سے میسر مجھ کو عمر بھر دیر و حرم نے دئے چکر مجھ کو بے کسی کا ہو برا لے گئی گھر گھر مجھ کو شکر ہے رہ گیا پردہ مری عریانی کا خاک کوچے کی ترے بن گئی چادر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4609 سے 6203