خاک ہند
اے خاک ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہے دریائے فیض قدرت تیرے لیے رواں ہے تیرے جبیں سے نور حسن ازل عیاں ہے اللہ رے زیب و زینت کیا اوج عز و شاں ہے ہر صبح ہے یہ خدمت خورشید پر ضیا کی کرنوں سے گوندھتا ہے چوٹی ہمالیا کی اس خاک دل نشیں سے چشمے ہوئے وہ جاری چین و عرب میں جن سے ہوتی تھی ...