قومی زبان

فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں

فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں جہاں بجتے ہیں نقارے وہیں ماتم بھی ہوتے ہیں گلے شکوے کہاں تک ہوں گے آدھی رات تو گزری پریشاں تم بھی ہوتے ہو پریشاں ہم بھی ہوتے ہیں جو رکھے چارہ گر کافور دونی آگ لگ جائے کہیں یہ زخم دل شرمندہ مرہم بھی ہوتے ہیں وہ آنکھیں سامری فن ہیں وہ لب ...

مزید پڑھیے

باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا

باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا افسانہ عاشقوں کا فقط یاد رہ گیا یہ سخت جاں تو قتل سے ناشاد رہ گیا خنجر چلا تو بازوئے جلاد رہ گیا پابندیوں نے عشق کی بیکس رکھا مجھے میں سو اسیریوں میں بھی آزاد رہ گیا چشم صنم نے یوں تو بگاڑے ہزار گھر اک کعبہ چند روز کو آباد رہ گیا محشر میں جائے ...

مزید پڑھیے

دل چرا کر نظر چرائی ہے

دل چرا کر نظر چرائی ہے لٹ گئے لٹ گئے دہائی ہے ایک دن مل کے پھر نہیں ملتے کس قیامت کی یہ جدائی ہے اے اثر کر نہ انتظار دعا مانگنا سخت بے حیائی ہے میں یہاں ہوں وہاں ہے دل میرا نارسائی عجب رسائی ہے اس طرح اہل ناز ناز کریں بندگی ہے کہ یہ خدائی ہے پانی پی پی کے توبہ کرتا ہوں پارسائی ...

مزید پڑھیے

زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں

زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں تجھ کو لپٹ پڑیں گے دیوانے آدمی ہیں غیروں کی دوستی پر کیوں اعتبار کیجے یہ دشمنی کریں گے بیگانے آدمی ہیں جو آدمی پہ گزری وہ اک سوا تمہارے کیا جی لگا کے سنتے افسانے آدمی ہیں کیا جرأتیں جو ہم کو درباں تمہارا ٹوکے کہہ دو کہ یہ تو جانے پہچانے ...

مزید پڑھیے

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا ...

مزید پڑھیے

جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا

جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا مگر دیکھو تو پھر کچھ آدمی سے ہو نہیں سکتا محبت میں کرے کیا کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا مرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا الگ کرنا رقیبوں کا الٰہی تجھ کو آساں ہے مجھے مشکل کہ میری بیکسی سے ہو نہیں سکتا کیا ہے وعدۂ فردا انہوں نے دیکھیے ...

مزید پڑھیے

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی بہت دیر کی مہرباں آتے آتے سنا ہے کہ آتا ہے سر نامہ بر کا کہاں رہ گیا ارمغاں آتے آتے یقیں ہے کہ ہو جائے آخر کو سچی مرے منہ میں تیری زباں آتے آتے سنانے کے قابل جو تھی بات ان کو وہی رہ گئی درمیاں ...

مزید پڑھیے

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں ah! this denial, nothing can allay every day you say no, not today کل جو تھا آج وہ مزاج نہیں اس تلون کا کچھ علاج نہیں her mood's inconstant, it does not endure for her fickleness there is no cure آئنہ دیکھتے ہی اترائے پھر یہ کیا ہے اگر مزاج نہیں seeing the mirror she preens instantly what else is this, if it's not vanity? لے ...

مزید پڑھیے

تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں

تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں اس کی قدرت کو دیکھتا ہوں میں جب ہوئی صبح آ گئے ناصح انہیں حضرت کو دیکھتا ہوں میں وہ مصیبت سنی نہیں جاتی جس مصیبت کو دیکھتا ہوں میں دیکھنے آئے ہیں جو میری نبض ان کی صورت کو دیکھتا ہوں میں موت مجھ کو دکھائی دیتی ہے جب طبیعت کو دیکھتا ہوں میں شب فرقت ...

مزید پڑھیے

ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا

ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا ہماری میت پہ تم جو آنا تو چار آنسو بہا کے جانا ذرا رہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا کہاں کا آنا کہاں کا جانا وہ جانتے ہی نہیں یہ رسمیں وہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4493 سے 6203