غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا ہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیا تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا کہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا سنا ہے تیغ کو قاتل نے ...