قومی زبان

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا ہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیا تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا کہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا سنا ہے تیغ کو قاتل نے ...

مزید پڑھیے

عذر ان کی زبان سے نکلا

عذر ان کی زبان سے نکلا تیر گویا کمان سے نکلا وہ چھلاوا اس آن سے نکلا الاماں ہر زبان سے نکلا خار حسرت بیان سے نکلا دل کا کانٹا زبان سے نکلا فتنہ گر کیا مکان سے نکلا آسماں آسمان سے نکلا آ گیا غش نگاہ دیکھتے ہی مدعا کب زبان سے نکلا کھا گئے تھے وفا کا دھوکا ہم جھوٹ سچ امتحان سے ...

مزید پڑھیے

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیں وہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں پھرے بت کدے سے تو اے اہل کعبہ پھر آ کر تمہارے قدم دیکھتے ہیں ہمیں چشم بینا دکھاتی ہے سب ...

مزید پڑھیے

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے انداز وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے انہیں قدموں نے تمہارے انہیں قدموں کی قسم خاک میں اتنے ...

مزید پڑھیے

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا غم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے یہ وہ زہر ہے ...

مزید پڑھیے

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا اپنے دل کو بھی بتاؤں نہ ٹھکانا تیرا سب نے جانا جو پتا ایک نے جانا تیرا تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہے کس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا آرزو ہی نہ رہی صبح وطن کی مجھ کو شام غربت ہے عجب وقت سہانا تیرا یہ ...

مزید پڑھیے

دل کو کیا ہو گیا خدا جانے

دل کو کیا ہو گیا خدا جانے کیوں ہے ایسا اداس کیا جانے اپنے غم میں بھی اس کو صرفہ ہے نہ کھلا جانے وہ نہ کھا جانے اس تجاہل کا کیا ٹھکانا ہے جان کر جو نہ مدعا جانے کہہ دیا میں نے راز دل اپنا اس کو تم جانو یا خدا جانے کیا غرض کیوں ادھر توجہ ہو حال دل آپ کی بلا جانے جانتے جانتے ہی ...

مزید پڑھیے

دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں

دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں جانے والی چیز کا غم کیا کریں ہم نے مر کر ہجر میں پائی شفا ایسے اچھوں کا وہ ماتم کیا کریں اپنے ہی غم سے نہیں ملتی نجات اس بنا پر فکر عالم کیا کریں ایک ساغر پر ہے اپنی زندگی رفتہ رفتہ اس سے بھی کم کیا کریں کر چکے سب اپنی اپنی حکمتیں دم نکلتا ہو تو ہمدم ...

مزید پڑھیے

غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہم

غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہم دل خون میں نہائے تو گنگا نہائیں ہم جنت میں جائیں ہم کہ جہنم میں جائیں ہم مل جائے تو کہیں نہ کہیں تجھ کو پائیں ہم جوف فلک میں خاک بھی لذت نہیں رہی جی چاہتا ہے تیری جفائیں اٹھائیں ہم ڈر ہے نہ بھول جائے وہ سفاک روز حشر دنیا میں لکھتے جاتے ہیں اپنی ...

مزید پڑھیے

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آ جائے میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانا دل کا نگۂ یار نے کی خانہ خرابی ایسی نہ ٹھکانا ہے جگر کا نہ ٹھکانا دل کا پوری مہندی بھی لگانی نہیں آتی اب تک کیوں کر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4492 سے 6203