قومی زبان

آپ کا اعتبار کون کرے

آپ کا اعتبار کون کرے روز کا انتظار کون کرے ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے پر تمہیں شرمسار کون کرے ہو جو اس چشم مست سے بے خود پھر اسے ہوشیار کون کرے تم تو ہو جان اک زمانے کی جان تم پر نثار کون کرے آفت روزگار جب تم ہو شکوۂ روزگار کون کرے اپنی تسبیح رہنے دے زاہد دانہ دانہ شمار کون ...

مزید پڑھیے

اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے

اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے اللہ تیری شان کے قربان جائیے بگڑے ہوئے مزاج کو پہچان جائیے سیدھی طرح نہ مانئے گا مان جائیے کس کا ہے خوف روکنے والا ہی کون ہے ہر روز کیوں نہ جائیے مہمان جائیے محفل میں کس نے آپ کو دل میں چھپا لیا اتنوں میں کون چور ہے پہچان جائیے ہیں تیوری میں ...

مزید پڑھیے

ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے

ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے those who meet you lovingly then into dust you grind those who bear affection, dear, are very hard to find کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں کوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے festive joy in places, elsewhere gloom of genocide some like the murderer rejoice, some victim-like ...

مزید پڑھیے

کعبہ کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے

کعبہ کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے سن کے مرا فسانہ انہیں لطف آ گیا سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے پیغام بر کی بات پر آپس میں رنج کیا میری زباں کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے کچھ تازگی ہو لذت آزار کے لیے ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے جاں بر ...

مزید پڑھیے

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری نہیں سنتے تو ہم ...

مزید پڑھیے

صاف کب امتحان لیتے ہیں

صاف کب امتحان لیتے ہیں وہ تو دم دے کے جان لیتے ہیں یوں ہے منظور خانہ ویرانی مول میرا مکان لیتے ہیں تم تغافل کرو رقیبوں سے جاننے والے جان لیتے ہیں پھر نہ آنا اگر کوئی بھیجے نامہ بر سے زبان لیتے ہیں اب بھی گر پڑ کے ضعف سے نالے ساتواں آسمان لیتے ہیں تیرے خنجر سے بھی تو اے ...

مزید پڑھیے

کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا

کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا دیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا میرے قابو میں نہ پہروں دل ناشاد آیا وہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا کوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیا کہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا لائے ہیں لوگ جنازے کی طرح محشر میں کس مصیبت سے ترا کشتۂ بیداد آیا جذب وحشت ...

مزید پڑھیے

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں تیور ترے اے رشک قمر دیکھ رہے ہیں ہم شام سے آثار سحر دیکھ رہے ہیں میرا دل گم گشتہ جو ڈھونڈا نہیں ملتا وہ اپنا دہن اپنی کمر دیکھ رہے ہیں کوئی تو نکل آئے گا سر باز محبت دل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں ہے ...

مزید پڑھیے

لباس فقر میں ہم کو جو خاکسار ملے

لباس فقر میں ہم کو جو خاکسار ملے انہیں کے در پہ سلاطین روزگار ملے وہ راز جس سے سلگتا رہا ہے دل کہہ دیں ہمارے دل سا اگر کوئی رازدار ملے شراب خانۂ چشتی میں بھی نظر آئے ہمیں جو الفت نانک کے بادہ خوار ملے غم جہاں نگری کا سفر قیامت تھا ہر ایک ذرے کے سینے میں کوہسار ملے کوئی بھی دورئ ...

مزید پڑھیے

راز نہاں تھی زندگی راز نہاں ہے آج بھی

راز نہاں تھی زندگی راز نہاں ہے آج بھی وہم و گماں میں تھی وہم و گماں ہے آج بھی کل بھی نوائے آگہی قیمت سنگ و خشت تھی نغمۂ امن و آشتی جنس گراں ہے آج بھی دل سے تو روز و شب ہوئی لاکھ طرح کی گفتگو تشنۂ گفتگو مگر اپنی زباں ہے آج بھی خاک میں جذب ہو گیا تیرے شہید کا لہو مطلع کائنات پر سرخ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4494 سے 6203