قومی زبان

بتائیں کیا تجھ کو چشم پر نم ہوا ہے کیا خوں آرزو کا

بتائیں کیا تجھ کو چشم پر نم ہوا ہے کیا خوں آرزو کا بنا گل داغ یاس و سرت جو دل میں قطرہ بچا لہو کا دبے جو گھٹ گھٹ کے دل میں ارماں وہ برق بن کر فلک پہ تڑپے جو ولولہ جی میں رہ گیا تھا وہ بلبلہ اب ہے آب جو کا عبث ہے تو چارہ گر پریشاں نہ تجھ سے کچھ بن پڑے گا درماں کہ ہو تو تار نفس سے ساماں ...

مزید پڑھیے

آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے

آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھے درد وہ فتنہ ہے جو دل کو بٹھا کے اٹھے آپ کی یاد میں ہم اے صنم غفلت کیش ایسے بیٹھے کہ قیامت ہی اٹھا کے اٹھے ایک دزدیدہ نظر سے مرا دل چھین کے واہ تم کدھر کو مری جاں آنکھ بچا کے اٹھے عرصۂ حشر تک اک لگ گیا تانتا ان کا مردے قبروں سے جو تیرے شہدا کے ...

مزید پڑھیے

الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے

الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے تھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلے تیغ و سناں کو رکھ دو آنکھیں لڑاؤ ہم سے اچھی ہے وہ لڑائی جس میں کہ میل نکلے دیکھا جو نور اس کا تو کھل گئی ہیں آنکھیں دنیا و دیں کے جھگڑے بچوں کا کھیل نکلے امید نیکیوں کی رکھو نہ تم بروں سے ممکن نہیں کھلی سے ...

مزید پڑھیے

اک طلسم عجب نما ہوں میں

اک طلسم عجب نما ہوں میں کیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میں ہے زوال اپنا اک نشان کمال بدو کی طرح گھٹ گیا ہوں میں کیا نشاں پوچھتے ہو تم میرا رہ گم گشتہ کا پتا ہوں میں ہے یہ حیرت کہ ہوں تجسم درد اور ہر درد کی دوا ہوں میں میری شہرت ہے میری گمنامی قوت بازوئے ہما ہوں میں رہ الفت میں نقش ...

مزید پڑھیے

میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیں

میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیں ہائے کس ناز سے ہنس ہنس کے کہا کچھ بھی نہیں عرض کی کچھ دل عاشق کی خبر ہے تو کہا ہاں نہیں کچھ نہیں بس کہہ تو دیا کچھ بھی نہیں تو نہ آیا شب وعدہ تو گیا کیا تیرا مر مٹے ہم ترے نزدیک ہوا کچھ بھی نہیں کیا ہے انجام محبت کوئی پوچھے ہم سے جیتے جی ...

مزید پڑھیے

حال دل کہنے کو کہتے ہو تو کب تم مجھ کو

حال دل کہنے کو کہتے ہو تو کب تم مجھ کو ہائے جس وقت نہیں تاب تکلم مجھ کو خاک ہو کر بھی وہی حسرت پابوس رہی ہو گئی موج صبا موج تلاطم مجھ کو ضعف سے حال یہ پتلا ہے رہ الفت میں سیل گریہ پہ بھی حاصل ہے تقدم مجھ کو کہتے ہیں ذکر شب وصل پہ کیا جانئے کیوں کبھی شرم اور کبھی آتا ہے تبسم مجھ ...

مزید پڑھیے

عشق ہی عشق ہو عاشق ہو نہ معشوق جہاں (ردیف .. ے)

عشق ہی عشق ہو عاشق ہو نہ معشوق جہاں ایسی اک درگہ توحید مآب اور بھی ہے ہوش سے کاٹ یہ دن زندہ دلی سے رکھ کام شیب کے بعد مری جان شباب اور بھی ہے یار مے خانے اگر کر گئے خالی غم کیا اب بھی ابر آتا ہے اور خم میں شراب اور بھی ہے گھر کیا غالبؔ و مومنؔ نے جہاں آنکھوں میں اسی بستی میں کوئی ...

مزید پڑھیے

کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والے

کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والے نالے آہوں سے سوا آگ لگانے والے بعد مردن تو ہوا سوز محبت پیدا وہ مری قبر پہ ہیں شمع جلانے والے کوٹھے پر چڑھ کے اڑایا نہ کریں آپ پتنگ ڈورے ڈالیں نہ کہیں یار اڑانے والے کیونکہ معشوقوں کے وعدوں پہ حیا کرتے تھے بھولے بھالے تھے بہت اگلے زمانے ...

مزید پڑھیے

کیوں کر چبھے نہ آنکھ میں گل خار کی طرح

کیوں کر چبھے نہ آنکھ میں گل خار کی طرح بھائی ہے دل کو ایک طرحدار کی طرح حالت تلاش یار میں یہ ہو گئی مری جاتا ہوں بیٹھ بیٹھ دل زار کی طرح کیا دل میں خار رشک رخ یار کا چبھا بگڑی ہوئی ہے کیوں گل گلزار کی طرح ہے کچھ نہ کچھ وہاں بھی اثر درد عشق کا آنکھ ان کی بھی ہے اس دل بیمار کی ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں

ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں سچ اگر پوچھو تو سچا آشنا ملتا نہیں آپ کے جو یار بنتے ہیں وہ ہیں مطلب کے یار اس زمانے میں محب با صفا ملتا نہیں سیرتوں میں بھی ہے انسانوں کی باہم اختلاف ایک سے صورت میں جیسے دوسرا ملتا نہیں دیر و کعبہ میں بھٹکتے پھر رہے ہیں رات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4486 سے 6203