بتائیں کیا تجھ کو چشم پر نم ہوا ہے کیا خوں آرزو کا
بتائیں کیا تجھ کو چشم پر نم ہوا ہے کیا خوں آرزو کا بنا گل داغ یاس و سرت جو دل میں قطرہ بچا لہو کا دبے جو گھٹ گھٹ کے دل میں ارماں وہ برق بن کر فلک پہ تڑپے جو ولولہ جی میں رہ گیا تھا وہ بلبلہ اب ہے آب جو کا عبث ہے تو چارہ گر پریشاں نہ تجھ سے کچھ بن پڑے گا درماں کہ ہو تو تار نفس سے ساماں ...