قومی زبان

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے قیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہے منائیں انہیں وصل میں کس طرح ہم یہ روٹھے کا کوئی منانا نہیں ہے ہے منظور انہیں امتحاں شوق دل کا نزاکت کا خالی بہانہ نہیں ہے وفا پر دغا صلح میں دشمنی ہے بھلائی کا ہرگز زمانہ نہیں ہے شب غم بھی ہو جائے گی اک دن آخر کبھی اک ...

مزید پڑھیے

یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیا

یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیا دوستی کا تیری سودا ہو گیا دوستی کیا ہم سری کا دھیان ہے قید سے آزاد اتنا ہو گیا کیسی آزادی اسیری چیز کیا جب فنا رنگ تمنا ہو گیا جب تمنا اور ڈر جاتا رہا تو ہر اک شے سے مبرا ہو گیا یوں مبرا ہو گئی جب کوئی ذات بند پھر نغمہ صفت کا ہو گیا جب ہوا اوصاف سے ...

مزید پڑھیے

پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میں

پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میں حسن خوب کھل کھیلا اس صفت کے منظر میں حسن عشق میں ہے یا عشق حسن میں مضمر جوہر آئنے میں یا آئینہ ہے جوہر میں عشق محشر آرا کی طور پر گری بجلی حسن لن ترانی کہ رہ سکا نہ چادر میں دیکھ اے تماشائی گل ہے رنگ و بو بالکل امتیاز نا ممکن ہے عرض سے جوہر ...

مزید پڑھیے

صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیا

صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیا جو مقام ماسوا تھا دل میں خالی ہو گیا ممتنع جو تھا وہ ہے زیب بداہت قلب کو جو یقینی امر تھا وہ احتمالی ہو گیا چھوڑی خود بینی تو اب ہر شے میں حسن آیا نظر دیدۂ حق بیں جلالی سے جمالی ہو گیا ذوق نظارہ یہ ہے آنکھوں پر اب رکھتا ہوں میں ذرے ذرے کو جو نذر ...

مزید پڑھیے

عشاق میں نام ہو چکا ہے

عشاق میں نام ہو چکا ہے کیفیؔ بدنام ہو چکا ہے کیا پوچھتے ہو مریض غم کو کام اس کا تمام ہو چکا ہے عاشق کا نہ امتحاں لو وہ تو بندۂ بے دام ہو چکا ہے کیوں ہم سے نہ منہ چھپا کے جائیں ہاں آپ کا کام ہو چکا ہے کیا کام ہمیں رہا کسی سے جب اپنا ہی کام ہو چکا ہے کیفیؔ کب تک یہ خواب غفلت مہر لب ...

مزید پڑھیے

ہے عکس آئینہ دل میں کسی بلقیس ثانی کا

ہے عکس آئینہ دل میں کسی بلقیس ثانی کا تصور ہے مرا استاد بہزاد اور مانی کا غنیمت سمجھو یہ مل بیٹھنا یاران جانی کا بھروسا کیا ہے دنیا میں دو روزہ زندگانی کا نزاکت ہو گئی ضرب المثل ان کی زمانے میں بھلا ہو یا الوہی اس ہماری سخت جانی کا ہے عکس اس چشم پر نم میں کسی آبی دوپٹے کا بنایا ...

مزید پڑھیے

دنیا میں بقا نہیں کسی کو

دنیا میں بقا نہیں کسی کو مرنا اک روز ہے سبھی کو وہ کون ہے جو ہے عیب سے پاک کیا کوئی برا کہے کسی کو معلوم ہے وعدے کی حقیقت بھلا لیتے ہیں اپنے جی کو خود نور خدا ہو تم میں پیدا دل سے کھو دو اگر خودی کو سو عیبوں کا ایک عیب ہے یہ افلاس خدا نہ دے کسی کو مشکل نہیں کوئی کام لیکن ہمت لازم ...

مزید پڑھیے

ہو کے عاشق جان مرنے سے چرائے کس لئے

ہو کے عاشق جان مرنے سے چرائے کس لئے مرد میداں جو نہ ہو میداں میں آئے کس لئے جو دل و ایماں نہ دیں نذر ان بتوں کو دیکھ کر یا خدا وہ لوگ اس دنیا میں آئے کس لئے ہے یہ انداز حیا اور طرز تمکیں کیوں نہیں جو نہ ہووے چور وہ آنکھیں چرائے کس لئے دیکھیے کس جنتی کے آج کھلتے ہیں نصیب تیغ کیوں ...

مزید پڑھیے

اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے

اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے ہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسے اک شکل ہے تفنن طبع جمال کی اس سے زیادہ کچھ نہیں دنیا کہیں جسے خمیازہ ہے کرشمہ پرستئ دہر کا اہل زمانہ عالم عقبیٰ کہیں جسے اک اشک ارمیدۂ ضبط غم فراق موج ہوائے شوق ہے دریا کہیں جسے باوصف ضبط راز محبت ہے آشکار عقدہ ...

مزید پڑھیے

فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگا

فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگا وہی افسانۂ ہستی کا میر داستاں ہوگا یقیں جس کا کلام قدس اجرالمحسنیں پر ہو نکو کاری کا اس کی قائل اک دن کل جہاں ہوگا حیات جاودانی پائے گا وہ عشق صادق میں جو عنقا کی طرح معدوم ہوگا بے نشاں ہوگا سفر راہ محبت کا چہل قدمی سمجھتے ہو ابھی دیکھو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4487 سے 6203