یگانہ کیا!
غالبؔ شکن ہزار ہیں صرف اک یگانہ کیا اس کا مگر بگاڑ سکا ہے زمانہ کیا جو نان میٹرک تھے وہ افسر بنے یہاں اب جو پی ایچ ڈی ہیں وہ بیچیں کرانا کیا مجھ سے یہ پوچھتی ہے مرے دل کی مالکن تم پر مرے حقوق نہیں مالکانہ کیا میرا کلام سن کے اک استاد نے کہا بیٹے غزل یہ تو نے کہی والدانہ کیا! با ...