قومی زبان

یگانہ کیا!

غالبؔ شکن ہزار ہیں صرف اک یگانہ کیا اس کا مگر بگاڑ سکا ہے زمانہ کیا جو نان میٹرک تھے وہ افسر بنے یہاں اب جو پی ایچ ڈی ہیں وہ بیچیں کرانا کیا مجھ سے یہ پوچھتی ہے مرے دل کی مالکن تم پر مرے حقوق نہیں مالکانہ کیا میرا کلام سن کے اک استاد نے کہا بیٹے غزل یہ تو نے کہی والدانہ کیا! با ...

مزید پڑھیے

ذلیل ہو کے تو جنت سے میں نہیں آیا

ذلیل ہو کے تو جنت سے میں نہیں آیا خدا نے بھیجا ہے ذلت سے میں نہیں آیا میں اس علاقہ سے آیا ہوں ہے جو مردم خیز دلائی لامہ کے تبت سے میں نہیں آیا مشاعرہ میں سنوں کیسے صبح تک غزلیں کہ گھر کو چھوڑ کے فرصت سے میں نہیں آیا اک اسپتال میں آیا کوئی یہ کہتی تھی خدا کا شکر ہے صورت سے میں نہیں ...

مزید پڑھیے

عشق کا پرچہ

محو حیرت ہوں کہ وہ سیٹر تھا کتنا با کمال عشق کے بارے میں پوچھا جس نے پرچہ میں سوال ایسے ہی سیٹر اگر دو چار پیدا ہو گئے دیکھنا اس ملک میں فن کار پیدا ہو گئے عام ہوگی عاشقی کالج کے عرض و طول میں لیلیٰ و مجنوں نظر آئیں گے اب اسکول میں عشق کے آداب لڑکوں کو سکھائے جائیں گے غیر عاشق جو ...

مزید پڑھیے

زہر بیمار کو مردے کو دوا دی جائے

زہر بیمار کو مردے کو دوا دی جائے ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے وصل کی رات جو محبوب کہے گڈ نائٹ قاعدہ یہ ہے کہ انگلش میں دعا دی جائے آج جلسے ہیں بہت شہر میں لیڈر کم ہیں احتیاطاً مجھے تقریر رٹا دی جائے مار کھانے سے مجھے عار نہیں ہے لیکن پٹ چکوں میں تو کوئی وجہ بتا دی جائے میری ...

مزید پڑھیے

تماشا مرے آگے

میں شہر کراچی سے کہاں بہر سفر جاؤں جی چاہتا ہے اب میں اسی شہر میں مر جاؤں اس شہر نگاراں کو جو چھوڑوں تو کدھر جاؤں صحرا مرے پیچھے ہے تو دریا مرے آگے اس شہر میں کچھ حسن کا معیار نہیں ہے بیوٹی کی ضرورت سر بازار نہیں ہے یوسف کا یہاں کوئی خریدار نہیں ہے شو کیس میں بیٹھی ہے زلیخا مرے ...

مزید پڑھیے

حسن پر اعتبار حد کر دی

حسن پر اعتبار حد کر دی آپ نے بھی فگارؔ حد کر دی آدمی شاہکار فطرت ہے میرے پروردگار حد کر دی شام غم صبح حشر تک پہنچی اے شب انتظار حد کر دی ایک شادی تو ٹھیک ہے لیکن ایک دو تین چار حد کر دی زوجہ اور رکشا میں ارے توبہ داشتہ اور بکار حد کر دی چھ مہینے کے بعد نکلا ہے آپ کا ہفتہ وار حد ...

مزید پڑھیے

شاعر سے شعر سنئے تو مصرع اٹھائیے

شاعر سے شعر سنئے تو مصرع اٹھائیے اک بار اگر نہ اٹھے دوبارہ اٹھائیے کوئی کسی کی لاش اٹھاتا نہیں یہاں اب خود ہی اپنا اپنا جنازہ اٹھائیے اغوا ہی کرنا تھا تو کوئی کم تھے لکھ پتی کس نے کہا تھا روڈ سے کنگلا اٹھائیے کوئی قدم اٹھانا تو ہے راہ شوق میں اگلا قدم نہ اٹھے تو پچھلا ...

مزید پڑھیے

کراچی کا قبرستان

اے کراچی ملک پاکستان کے شہر حسیں مرنے والوں کو جہاں ملتی نہیں دو گز زمیں قبر کا ملنا ہی ہے اول تو اک ٹیڑھا سوال اور اگر مل جائے اس پر دخل ملنا ہے محال ہے یہی صورت تو اک ایسا بھی دن آ جائے گا آنے والا دور مردوں پر مصیبت ڈھائے گا مرد ماں بسیار ہوں گے اور جائے قبر تنگ قبر کی تقسیم پر ...

مزید پڑھیے

شادی کے خط میں تھا جو خلا یاد آ گیا

شادی کے خط میں تھا جو خلا یاد آ گیا بالکل غلط لکھا تھا پتا یاد آ گیا جوتے کے انتخاب کو مسجد میں جب گئے وہ جوتیاں پڑیں کہ خدا یاد آ گیا اس شوخ کے ولیمہ میں کھا کر چکن پلاؤ کنکی کے چاولوں کا مزا یاد آ گیا مطلع پڑھا جو اس نے رجسٹر نکال کر پورا طلسم ہوش ربا یاد آ گیا ہم بھی کبھی وزیر ...

مزید پڑھیے

چالیس چور

پھر اک خبر میں یہ اعلان خوب صورت ہے کہ ایک فرم کو کچھ چوروں کی ضرورت ہے کچھ ایسے چور جو چوروں کی دیکھ بھال کریں جو پاسباں کے فرائض کا بھی خیال کریں خبر میں اس کی وضاحت نہ کر سکا اخبار کہ کیسے چور ہیں مذکورہ فرم کو درکار نہ جانے کون سے چوروں کی فرم کو ہے طلب ترے جہاں میں تو چالیس چور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4460 سے 6203