قومی زبان

شاعر اعظم

کل اک ادیب و شاعر و ناقد ملے ہمیں کہنے لگے کہ آؤ ذرا بحث ہی کریں کرنے لگے یہ بحث کہ اب ہند و پاک میں وہ کون ہے کہ شاعر اعظم جسے کہیں میں نے کہا جگرؔ تو کہا ڈیڈ ہو چکے میں نے کہا کہ جوشؔ کہا قدر کھو چکے میں نے کہا فراقؔ کی عظمت پہ تبصرہ بولے فراقؔ شاعر اعظم ارا ررا میں نے کہا ندیمؔ ...

مزید پڑھیے

رشوت خور سرکاری ملازمین

ایسے گیلپ سروے کو ہم کہہ نہیں سکتے دروغ جو یہ کہتا ہے کہ اب رشوت کو حاصل ہے فروغ ہم بھی کہتے ہیں کہ سچ ہے آج یہ سروے ضرور ایک چوتھائی ملازم ہیں یہاں رشوت سے دور ایک چوتھائی میں بھی وہ لوگ ہیں دس فیصدی جو کرپشن کو اصولاً بھی سمجھتے ہیں بدی وہ اصولوں کے سبب سے بات کہتے ہیں ...

مزید پڑھیے

لندن میں جشن غالب

لندن میں جشن حضرت غالبؔ کی رات تھی تاریخ شاعری میں یہ اک واردات تھی اس جشن میں شریک تھے ہر ملک کے وفود حل ہو گیا تھا مسئلہ وحدت الوجود جنت سے میرزا کو جو کنکارڈ لے چلا پر ہو گیا سفر سے جو تھا راہ میں خلا مرزا کے پاس باکس میں تمباکو تھی فقط کسٹم کے افسروں نے اسے سمجھا ہی ...

مزید پڑھیے

سیاہ زلف کو جو بن سنور کے دیکھتے ہیں

سیاہ زلف کو جو بن سنور کے دیکھتے ہیں سفید بال کہاں اپنے سر کے دیکھتے ہیں سنا ہے فیس ہے کچھ اس سے بات کرنے کی یہ فیس کیا ہے ابھی بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے لوگ سیہ فام مہ جبینوں کو لگا کے دھوپ میں چشمے نظر کے دیکھتے ہیں سنا ہے جیب میں مفلس بھی مال رکھتے ہیں سو مفلسوں کی بھی جیبیں ...

مزید پڑھیے

کراچی کی بس

بس میں لٹک رہا تھا کوئی ہار کی طرح کوئی پڑا تھا سایۂ دیوار کی طرح سہما ہوا تھا کوئی گناہ گار کی طرح کوئی پھنسا تھا مرغ گرفتار کی طرح محروم ہو گیا تھا کوئی ایک پاؤں سے جوتا بدل گیا تھا کسی کا کھڑاؤں سے کوئی پکارتا تھا مری جیب کٹ گئی کہتا تھا کوئی میری نئی پینٹ پھٹ گئی بس میں تمام ...

مزید پڑھیے

مردم گزیدہ انسان کا علاج

بہت دنوں میں کوئی کام کی خبر آئی کہیں تو شہر میں انسانیت نظر آئی بڑا وسیع خلا اس خبر نے پاٹا ہے کہ آدمی نے کسی آدمی کو کاٹا ہے گئے وہ دن کہ جب انسان سگ گزیدہ تھا لہو لہو تھا بدن پیرہن دریدہ تھا ہمارے دور میں ظالم ستم رسیدہ ہے کہ آدمی ہی یہاں آدمی گزیدہ ہے عجیب دور ہے کتا تو رحم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4459 سے 6203