قومی زبان

عمر رفتہ کی کہانی کیا ہے

عمر رفتہ کی کہانی کیا ہے ایک تہمت ہے جوانی کیا ہے میرے اشکوں کی روانی دیکھی تیرے خنجر کی روانی کیا ہے تیرے محبوب تبسم کا جواب میری آشفتہ بیانی کیا ہے رات روتے ہوئے گزرے گی ضرور ورنہ یہ دل پہ گرانی کیا ہے دشمن زیست پہ جاں دیتا ہوں اور جینے کی نشانی کیا ہے ہاتھ میں تیغ ہے بل ...

مزید پڑھیے

عشق کی دنیا میں اک ہنگامہ برپا کر دیا

عشق کی دنیا میں اک ہنگامہ برپا کر دیا اے خیال دوست یہ کیا ہو گیا کیا کر دیا ذرے ذرے نے مرا افسانہ سن کر داد دی میں نے وحشت میں جہاں کو تیرا شیدا کر دیا طور پر راہ وفا میں بو دیئے کانٹے کلیم عشق کی وسعت کو مسدود تقاضا کر دیا بستر مشرق سے سورج نے اٹھایا اپنا سر کس نے یہ محفل میں ذکر ...

مزید پڑھیے

جینے کے لیے جو مر رہے ہیں

جینے کے لیے جو مر رہے ہیں آغاز حیات کر رہے ہیں ہے حسن کا نام مفت بدنام لوگ اپنی طلب میں مر رہے ہیں غنچوں کی طرح کھلے تھے کچھ لوگ کرنوں کی طرح بکھر رہے ہیں ہے نقش قدم پہ نقش زنجیر دیوانے جدھر گزر رہے ہیں سنتا ہوں کہ آپ کے وفادار انجام وفا سے ڈر رہے ہیں ساحل کو بھی چھوڑتے نہیں ...

مزید پڑھیے

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا شروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گا دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن اس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا ترا علاج شفا گاہ عصر نو میں نہیں خرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا حصار ضبط ہے ابر رواں کی پرچھائیں ملال روح کو کب تک بدن چھپائے گا نظر کا فرد ...

مزید پڑھیے

نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے

نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے وقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہے اور ذکر کیا کیجے اپنے دل کی حالت کا کچھ بگڑتی رہتی ہے کچھ سنبھلتی رہتی ہے ذہن ابھار دیتا ہے نقش حال و ماضی کے ان دنوں طبیعت کچھ یوں بہلتی رہتی ہے تہہ نشین موجیں تو پر سکون رہتی ہیں اور سطح دریا کی موج اچھلتی ...

مزید پڑھیے

مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیا

مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیا فاصلے کم ہو گئے منزل قریب آئی تو کیا ہے وہی جبر اسیری اور وہی غم کا قفس دل پہ بن آئی تو کیا یہ روح گھبرائی تو کیا اپنی بے تابئ دل کا خود تماشا بن گئے آپ کی محفل کے بنتے ہم تماشائی تو کیا بات تو جب ہے کہ سارا گلستاں ہنسنے لگے فصل گل میں چند ...

مزید پڑھیے

ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئے

ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئے بے نوریوں کو نور سے چمکانا چاہئے خوابوں کی ناؤ اور سمندر کا مد و جزر ٹکرا کے پاش پاش اسے ہو جانا چاہئے نشتر زنی تو شیوۂ ارباب فن نہیں ان دل جلوں کو بات یہ سمجھانا چاہئے ہو رقص زندگی کے جہنم کے ارد گرد پروانہ بن کے کس لیے جل جانا چاہئے کھودیں ...

مزید پڑھیے

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر موسم ہے سرد مہر لہو ہے جماؤ پر چوپال چپ ہے بھیڑ لگی ہے الاؤ پر سب چاندنی سے خوش ہیں کسی کو خبر نہیں پھاہا ہے ماہتاب کا گردوں کے گھاؤ پر اب وہ کسی بساط کی فہرست میں نہیں جن منچلوں نے جان لگا دی تھی داؤ پر سورج کے ...

مزید پڑھیے

زندگی میں اس کو کیف زندگی حاصل نہیں

زندگی میں اس کو کیف زندگی حاصل نہیں جس کا دل راز و نیاز عشق کے قابل نہیں حسن کے پردے میں ہو سکتا نہیں ہرگز قرار روز اول سے یہ لیلیٰ خوگر محمل نہیں قدر کر دل کی کہ درگاہ خدا میں اے ندیم دو جہاں کی نعمتیں حاضر ہیں لیکن دل نہیں ہوشیار اے مست و مدہوش جوانی ہوشیار عشق وہ دریا ہے جو ...

مزید پڑھیے

رندان‌ تشنہ کام کو جا کر خبر کریں

رندان‌ تشنہ کام کو جا کر خبر کریں آئی بہار ابر کرم پر نظر کریں ہوں منفعل ضرور مگر اے گناہ عشق اب اشک بھی نہیں ہیں جو دامن کو تر کریں بے وجہ کب ہے پرسش حال شب فراق مقصد یہ ہے اضافۂ درد جگر کریں فرصت کے دن ہیں ساقئ میکش نواز اٹھ کیوں انتظار موسم دیوانہ گر کریں مجھ پر اٹھا رہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4425 سے 6203