ہزاروں غم ہیں اس منزل میں منزل دیکھنے والے
ہزاروں غم ہیں اس منزل میں منزل دیکھنے والے کلیجہ تھام لے اپنا مرا دل دیکھنے والے یہ دل والوں کو تعلیم سجود پائے جاناں ہے سر ہر موج کو برپائے ساحل دیکھنے والے ہر اک ذرے میں پوشیدہ ہے اک طغیان مدہوشی سنبھل کر دیکھنا پیمانۂ دل دیکھنے والے مٹاتا جا رہا ہوں نقش پا صحرا نوردی ...