قومی زبان

ہزاروں غم ہیں اس منزل میں منزل دیکھنے والے

ہزاروں غم ہیں اس منزل میں منزل دیکھنے والے کلیجہ تھام لے اپنا مرا دل دیکھنے والے یہ دل والوں کو تعلیم سجود پائے جاناں ہے سر ہر موج کو برپائے ساحل دیکھنے والے ہر اک ذرے میں پوشیدہ ہے اک طغیان مدہوشی سنبھل کر دیکھنا پیمانۂ دل دیکھنے والے مٹاتا جا رہا ہوں نقش پا صحرا نوردی ...

مزید پڑھیے

مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھا

مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھا وگرنہ کون سے دن حسن بے نقاب نہ تھا اگرچہ ناز کش ساغر شراب نہ تھا خمار خانے میں مجھ سا کوئی خراب نہ تھا کھلا طلسم تمنا تو کھل گیا یہ بھی کہ اک فریب نظر تھا ترا شباب نہ تھا خیال دوست تری جلوہ تابیوں کی قسم جو تو نہ تھا مری دنیا میں آفتاب نہ ...

مزید پڑھیے

رموز بے خودی سمجھے نہ اسرار خودی سمجھے

رموز بے خودی سمجھے نہ اسرار خودی سمجھے بڑی شے ہے اگر اپنی حقیقت آدمی سمجھے ضیا اندر ضیا تنویر در تنویر ضو در ضو کوئی آخر کہاں تک راز ہائے زندگی نہیں ہٹتی نظر انجام عالم سے نہیں ہٹتی اسے کوئی خودی گردان لے یا بے خودی سمجھے بہت مشکل ہے اس معیار کی رندی زمانے میں جو لغزش کو گنہ ...

مزید پڑھیے

کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئی

کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئی چراغ روح میں جیسے جلا رہا ہے کوئی کوئی کلیم اٹھے ورنہ انتظار کے بعد چراغ طورمحبت بجھا رہا ہے کوئی وہ دیر کا تھا کہ کعبے کا یہ نہیں معلوم مری خودی کا محافظ خدا رہا ہے کوئی جو روکنا ہو تو آ بڑھ کے روک لے ورنہ ترے حدود تغافل سے جا رہا ہے ...

مزید پڑھیے

بچھڑ کر ان سے یوں غم میں گزاری زندگی ہم نے

بچھڑ کر ان سے یوں غم میں گزاری زندگی ہم نے سحر تاریک دیکھی سرخ پائی چاندنی ہم نے ہمیں دعویٰ نہیں تنہا نباہی دوستی ہم نے محبت کو سنبھالا ہے کبھی تم نے کبھی ہم نے خوشی غم میں نظر آئی خوشی میں غم نظر آیا ابھی دنیا پہ ڈالی تھی نگاہ سرسری ہم نے بڑی بے چارگی نکلی بہت ہی نارسی پائی ازل ...

مزید پڑھیے

رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کر

رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کر وہی نکلے سریر آرا قیامت میں خدا ہو کر حقیقت در حقیقت بتکدے میں ہے نہ کعبہ میں نگاہ شوق دھوکے دے رہی ہے رہنما ہو کر مآل کار سے گلشن کی ہر پتی لرزتی ہے کہ آخر رنگ و بو اڑ جائیں گے اک دن ہوا ہو کر ابھی کل تک جوانی کے خمستاں تھے نگاہوں میں یہ دنیا ...

مزید پڑھیے

یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے

یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے اتنا ضرور ہے کہ شکایت نہیں مجھے میں ہوں کہ اشتیاق میں سر تا قدم نظر وہ ہیں کہ اک نظر کی اجازت نہیں مجھے آزادئ گناہ کی حسرت کے ساتھ ساتھ آزادئ خیال کی جرأت نہیں مجھے دوبھر ہے گرچہ جور عزیزاں سے زندگی لیکن خدا گواہ شکایت نہیں مجھے جس کا گریز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4422 سے 6203