قومی زبان

جب رخ حسن سے نقاب اٹھا

جب رخ حسن سے نقاب اٹھا بن کے ہر ذرہ آفتاب اٹھا ڈوبی جاتی ہے ضبط کی کشتی دل میں طوفان اضطراب اٹھا مرنے والے فنا بھی پردہ ہے اٹھ سکے گر تو یہ حجاب اٹھا شاہد مئے کی خلوتوں میں پہنچ پردۂ نشۂ شراب اٹھا ہم تو آنکھوں کا نور کھو بیٹھے ان کے چہرے سے کیا نقاب اٹھا عالم حسن سادگی ...

مزید پڑھیے

کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھا

کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھا میں جس کو ڈھونڈھتا تھا مرے آئنے میں تھا جس کی نگاہ میں تھیں ستاروں کی منزلیں وہ میر کائنات اسی قافلے میں تھا رہ گیر سن رہے تھے یہ کس جشن‌ نو کا شور کل رات میرا ذکر یہ کس سلسلے میں تھا رقصاں تھے رند جیسے بھنور میں شفق کے پھول جو پاؤں پڑ رہا تھا ...

مزید پڑھیے

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے بندھا ہوا ہے بہاروں کا اب وہیں تانتا جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کے لئے کوئی نسیم کا نغمہ کوئی شمیم کا راگ فضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کے لئے خدا نہ کردہ زمیں پاؤں سے اگر کھسکی بڑھیں گے تند بگولے ...

مزید پڑھیے

کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہے

کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہے جو میرا نام آتا ہے تو خالی جام آتا ہے نہ آؤ تم تو پھر کیوں ہچکیوں پر ہچکیاں آئیں انہیں روکو یہ کیوں پیغام پر پیغام آتا ہے یہ ساون یہ گھٹا یہ بجلیاں یہ ٹوٹتی راتیں بھلا ایسے میں دل والوں کو کب آرام آتا ہے ادب اے جذبۂ بیباک یہ آہ و فغاں ...

مزید پڑھیے

رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے

رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے ہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھے ہے فرق طلب گار و پرستار میں اے دوست دنیا تھی طلب گار پرستار ہمیں تھے اس بندہ نوازی کے تصدق سر محشر گویا تری رحمت کے سزاوار ہمیں تھے دے دے کے نگاہوں کو تصور کا سہارا راتوں کو ترے واسطے بیدار ہمیں تھے بازار ازل ...

مزید پڑھیے

سوز جنوں کو دل کی غذا کر دیا گیا

سوز جنوں کو دل کی غذا کر دیا گیا اک زہر جاں طلب کو دوا کر دیا گیا ناسور بھر سکے نہ فغاں ضبط ہو سکی جب نے کو نیستاں سے جدا کر دیا گیا اہل وفا میں موت کی تلخی کو سر بسر قنداب زندگی سے سوا کر دیا گیا ازبر کرا دیا ہے خزاں کو نصاب گل صرصر کو درس دے کے صبا کر دیا گیا سورج سے رنگ رنگ کی ...

مزید پڑھیے

بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابی

بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابی یہ بد مست آنکھیں یہ ڈورے گلابی ہیں قصر محبت کے معمار دونوں نگاہوں کا دھوکا دلوں کی خرابی یہ کفر مجسم یہ زہد سراپا یہ گنجان گیسو یہ روئے کتابی ہر اک شے میں تم مسکراتے ہو گویا ہزاروں حجابوں میں یہ بے حجابی ابھی تک نگاہوں پہ چھائی ہوئی ہے وہ مستی ...

مزید پڑھیے

آج بھڑکی رگ وحشت ترے دیوانوں کی

آج بھڑکی رگ وحشت ترے دیوانوں کی قسمتیں جاگنے والی ہیں بیابانوں کی پھر گھٹاؤں میں ہے نقارۂ وحشت کی صدا ٹولیاں بندھ کے چلیں دشت کو دیوانوں کی آج کیا سوجھ رہی ہے ترے دیوانوں کو دھجیاں ڈھونڈھتے پھرتے ہیں گریبانوں کی روح مجنوں ابھی بیتاب ہے صحراؤں میں خاک بے وجہ نہیں اڑتی ...

مزید پڑھیے

میں عوام میں ہوں لیکن نہیں خوئے عامیانہ

میں عوام میں ہوں لیکن نہیں خوئے عامیانہ نہ عمل خوشامدانہ نہ سخن خوشامدانہ تری اور زندگی ہے مری اور زندگی ہے میں بلندیوں کا جویا تو اسیر آشیانہ مجھے راس ہی نہ آئی کبھی ناقصوں کی صحبت مرے جسم ناتواں میں نہیں روح تاجرانہ مرے خضر کے قدم ہیں مجھے مشعل منازل مرے دیدۂ طلب میں ہے ...

مزید پڑھیے

نظر فریب قضا کھا گئی تو کیا ہوگا

نظر فریب قضا کھا گئی تو کیا ہوگا حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہوگا بزعم ہوش تجلی کی جستجو بے سود جنوں کی زد پہ خرد آ گئی تو کیا ہوگا نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہیں مگر نئی سحر بھی جو کجلا گئی تو کیا ہوگا نہ رہنماؤں کی مجلس میں لے چلو مجھ کو میں بے ادب ہوں ہنسی آ گئی تو کیا ہوگا شباب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4423 سے 6203