قومی زبان

عشق کب اپنے مقاصد کا نگہباں نہ ہوا

عشق کب اپنے مقاصد کا نگہباں نہ ہوا کون سا غم ہے جو آخر غم جاناں نہ ہوا لاکھ چاہا مگر افسوس کہ آنسو نہ تھمے ضبط غم مجھ سے بقدر غم پنہاں نہ ہوا تیری عشرت ہے کہ گردوں کے دبائے نہ دبی میرا غم ہے کہ ہنسی میں بھی نمایاں نہ ہوا غم دنیا غم عقبیٰ غم ہستی غم موت کوئی غم بھی تو حریف غم جاناں ...

مزید پڑھیے

شب خمار‌‌ حسن ساقی حیرت میخانہ تھا

شب خمار‌‌ حسن ساقی حیرت میخانہ تھا آپ ہی مے آپ ہی خم آپ ہی پیمانہ تھا کعبہ و دیر کلیسا میں عبث ڈھونڈا کئے دل کا ہر گوشہ مقام جلوۂ جانانہ تھا رنگ لایا ہے برائے‌ دیدۂ انجام جو شمع ہر ہر ذرۂ خاک پر پروانہ تھا خامیٔ ذوق نظر تھی ورنہ اے ناکام عشق ذرے ذرے سے نمایاں جلوۂ جانانہ ...

مزید پڑھیے

مجھے پوچھا ہے آ کر تم نے اس اخلاق کامل سے

مجھے پوچھا ہے آ کر تم نے اس اخلاق کامل سے کہ میں شرمندہ ہو کر رہ گیا اندازۂ دل سے نظر کے رخ کو یا تو دل کی جانب پھیر لینے دو نہیں تو سامنے آ جاؤ اٹھ کر پردۂ دل سے امیدیں اٹھ رہی ہیں سیکڑوں امیدواروں کی میں تنہا ہوں مگر تنہا نہیں اٹھوں گا محفل سے امیر کارواں جس روشنی کے بل پہ ...

مزید پڑھیے

ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جا

ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جا گم ہو کے بے خودی میں آگاہ راز ہو جا حد بھی تو چاہیئے کچھ بے اعتنائیوں کی غارت گر تحمل تسکیں نواز ہو جا اے سرمدی ترانے ہر شے میں سوز بھر دے یہ کس نے کہہ دیا ہے پابند ساز ہو جا غیرت کی چلمنوں سے آواز آ رہی ہے محو نیاز مندی آ بے نیاز ہو جا آ مل کے پھر ...

مزید پڑھیے

جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گا

جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گا وقت کا سیل ٹھہر جائے گا چاند تم دیکھ رہے ہو جس کو یہ بھی آنسو سا ڈھلک جائے گا ایک دو موڑ ہی مڑ کر انساں بام گردوں کی خبر لائے گا میں نے دیکھے ہیں چمن بے پردہ کوئی گل کیا مرے منہ آئے گا حسن سے دور ہی رہنا بہتر جو ملے گا وہی پچھتائے گا اور کچھ دیر ...

مزید پڑھیے

اب کہو کارواں کدھر کو چلے

اب کہو کارواں کدھر کو چلے راستے کھو گئے چراغ جلے آنسوؤں میں نہا گئیں خوشیاں روٹھ کر جب وہ آ لگے ہیں گلے عشق غم کو عبور کر نہ سکا راستے کارواں کے ساتھ چلے ہم پہ گزری ہیں ہجر کی راتیں ہم جہنم میں تھے مگر نہ جلے تھے محبت کی ابتدا کے قصور وہ تبسم جو آنسوؤں میں ڈھلے خاک سے سینکڑوں ...

مزید پڑھیے

حوصلے مایوس ذوق جستجو ناکام ہے

حوصلے مایوس ذوق جستجو ناکام ہے یہ دل‌ نا محرم انجام کا انجام ہے آنکھ کیا ہے حسن کی رنگینیوں کا آئنہ دل ہے کیا خون تمنا کا چھلکتا جام ہے دیجیے بیمار‌ الفت کی جگر داری کی داد نزع کا عالم ہے ہونٹوں پر تمہارا نام ہے پھر وہ یاد آئے ہوئی مدہوش دل کی کائنات پھر اٹھا درد جگر پھر کچھ ...

مزید پڑھیے

کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہم

کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہم اس جگہ پہنچے کہ ہو کر رہ گئے دیوانہ ہم سانس لے سکتے نہیں افسوس آزادانہ ہم جانے کب سے ہیں اسیر کعبہ و بتخانہ ہم وہ محبت ہی نہیں جس میں نہ ہوں شکوے گلے اک کہانی تم سنائے جاؤ اک افسانہ ہم دیر پا نکلی نہ فانوس خرد کی روشنی بڑھ گئی وحشت بالآخر ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4421 سے 6203