قومی زبان

مہاجر

یہاں کبھی کبھی دھوپ بھی زینہ زینہ یوں اتری ہے جیسے اجنبی ہو اور مجھے وہ لوگ یاد آئے ہیں جو اپنے وطن سے بچھڑ گئے مہاجر جلا وطن جنہوں نے سمجھا تھا کہ اجنبی شہر میں موت کم لوگوں کو آتی ہے جو یہاں اس گمان میں آئے تھے کہ عافیت دائم رہے گی تم نے ڈھلتے سایوں کی سیاست سے گریز کیا ہے تم ...

مزید پڑھیے

چاند

چاند قریب آؤ بیٹھو میرے پاس میرے چپ دوست مجھے دو چیتے کا نقرئی داغ دار بدن برفیلی رات میں دبا ہوا جو تمہاری گود میں ہے مجھے سکھاؤ دو لفظ ہسپانوی چینی پرتگالی اخلاص کے وہ سبز لفظ جو تم نے سنے ہیں اپنی چاندنی میں خوف پا گزرے ہوؤں کی امانت کی طرح جذب کر لیے ہیں مجھے دو عورتوں اور ...

مزید پڑھیے

آواگون

واپسی واپسی شکستہ بوڑھے شہر تیری گلیاں نہ جانے کب سے اکھڑے ہوئے سانسوں کی طرح باہم الجھتی رہی ہیں مٹی اور فولاد اور لکڑی کے شہر میں مقدر کی مثال ایک بار پھر پلٹ آیا ہوں

مزید پڑھیے

پہچان

وہ لمحہ آئینوں کا دریا جس میں تم نے اپنا آپ پہچانا جس میں تم نے جانا کہ اپنے وجود میں قید تم محض سراب ہو کہ شعروں میں محفوظ ہو تو تم آواز نہیں بازگشت نہیں محفل آوازوں ارادوں کا خواب ہو اس دانش گاہ کے بادلوں میں کوندے بھرے ہیں میرے ہاتھوں میں ہاتھ دو میرے ہاتھوں میں ہاتھ دو سیاہ ...

مزید پڑھیے

میری موت کے مسیحا!

میری موت کے مسیحا! تین بر اعظموں پہ تم نے میرا پیچھا کیا ہے موسم بدلتے رہے تقدیر کی طرح میں شہر شہر پھرا دھوپ کی طرح میں نے خاموشیاں لفظوں کے سپرد کیں زبان کے لفظ بدلے مگر تم اک تاریک سرنگ کی طرح سایہ سایہ میرے شعور میں اترتے چلے گئے ہو میرے ذہن میرے جسم میرے قلب کے معکوس ...

مزید پڑھیے

فاصلوں کی بات

تم نے فاصلوں کی بات سمجھ لی تو تمہیں یاد آئے گا کہ فنا ہم سب کی تقدیر ہے تمہیں معلوم ہے؟ تمہارے گھر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں نے ہزار بار چپ چاپ زینے کی سفید دیواروں پہ انگلیاں پھیری ہیں اس امید میں کہ شاید لمس کے ایسے ذائقے وہاں رہ جائیں جو تم ہمیشہ بدن کے گنجلک اور بے لفظ ذائقوں ...

مزید پڑھیے

غم بھی اتنا نہیں کہ تم سے کہیں

غم بھی اتنا نہیں کہ تم سے کہیں اور چارہ نہیں کہ تم سے کہیں آج ہم بے کراں سمندر ہیں تم وہ دریا نہیں کہ تم سے کہیں یوں تو مرنے سے چین ملتا ہے یہ ارادہ نہیں کہ تم سے کہیں نیلی آنکھوں کی چاندنی کے لیے اب اندھیرا نہیں کہ تم سے کہیں تم اکیلے نہیں رہے تو کیا ہم بھی تنہا نہیں کہ تم سے ...

مزید پڑھیے

اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میں

اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میں میں جو رویا تو کوئی ہنستا رہا تھا مجھ میں میری آنکھوں سے خبر جان نہ لی ہو اس نے کوئی بادل تھا بہت ٹوٹ کے برسا مجھ میں جھانکنے سے مری آنکھوں میں سبھی ڈرنے لگے جب سے اترا ہے کوئی آئینہ خانہ مجھ میں کیا ہوا تھا مجھے کیوں سوچتا تھا اس کے ...

مزید پڑھیے

ہنسنے میں رونے کی عادت کبھی ایسی تو نہ تھی

ہنسنے میں رونے کی عادت کبھی ایسی تو نہ تھی تیری شوخی غم فرقت کبھی ایسی تو نہ تھی اشک آ جائیں تو پلکوں پہ بٹھاؤں گا انہیں قطرۂ خوں تری عزت کبھی ایسی تو نہ تھی کشت غم اور بھی لہرانے لگی ہنسنے لگی چشم نم تیری شرارت کبھی ایسی تو نہ تھی کتنے غم بھول گیا شکریہ تیرا غم یار یوں مجھے ...

مزید پڑھیے

گلے لگ کر مرے وہ جانے ہنستا تھا کہ روتا تھا

گلے لگ کر مرے وہ جانے ہنستا تھا کہ روتا تھا نہ کھل کر دھوپ پھیلی تھی نہ بادل کھل کے برسا تھا کبھی دل بھی نہیں اک زخم آنکھوں کی جگہ آنسو کبھی میں بھی نہ تھا بس ڈائری میں شعر لکھا تھا وہ ہر پل ساتھ ہے میرے کہاں تک اس کو میں دیکھوں گئے وہ دن کہ اس کے نام پر بھی دل دھڑکتا تھا یہاں ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4406 سے 6203