قومی زبان

دن اترتے ہی نئی شام پہن لیتا ہوں

دن اترتے ہی نئی شام پہن لیتا ہوں میں تری یادوں کا احرام پہن لیتا ہوں میرے گھر والے بھی تکلیف میں آ جاتے ہیں میں جو کچھ دیر کو آرام پہن لیتا ہوں رات کو اوڑھ کے سو جاتا ہوں دن بھر کی تھکن صبح کو پھر سے کئی کام پہن لیتا ہوں جب بھی پردیس میں یاد آتا ہے گھر کا نقشہ میں تصور میں در و ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات کہ تاخیر سے الگ کروں گا

یہ اور بات کہ تاخیر سے الگ کروں گا مگر تجھے تری تصویر سے الگ کروں گا مسافرت سے جو فرصت ہوئی نصیب تو پھر تھکن کو پاؤں کی زنجیر سے الگ کروں گا جو میرے دائمی احساس سے جڑا ہے سبق میں کس طرح اسے تحریر سے الگ کروں گا کنوارے خواب ہوئے جا رہے ہیں آوارہ انہیں میں لذت تعبیر سے الگ کروں ...

مزید پڑھیے

صراحی مضمحل ہے مے کا پیالہ تھک چکا ہے

صراحی مضمحل ہے مے کا پیالہ تھک چکا ہے در ساقی پہ ہر اک آنے والا تھک چکا ہے اندھیرو آؤ آ کر تم ہی کچھ آرام دے دو کہ چلتے چلتے بیچارہ اجالا تھک چکا ہے عداوت کی دراریں ویسی کی ویسی ہیں اب تک وہ بھرتے بھرتے الفت کا مسالہ تھک چکا ہے مجھے لوٹا ضرورت کی یہاں ہر کمپنی نے مسلسل کرتے کرتے ...

مزید پڑھیے

بات بن جائے جو تفصیل سے باتیں کر لے

بات بن جائے جو تفصیل سے باتیں کر لے تشنگی میری اگر جھیل سے باتیں کر لے جہاں کے گاؤں سے تاریکی نکل سکتی ہے دل اگر فکر کی قندیل سے باتیں کر لے تو خریدار مرے دل کی زمیں کا ہے ٹھہر پہلے دل روح کی تحصیل سے باتیں کر لے کعبۂ دل تجھے محفوظ اگر رکھنا ہے جا کے الفت کی ابابیل سے باتیں کر ...

مزید پڑھیے

تپتا سورج شام کو ڈھل جائے گا

تپتا سورج شام کو ڈھل جائے گا وقت کیسا ہی پڑے ٹل جائے گا آ گیا ہے راس ویرانہ اسے لوٹ کے گھر کیسے پاگل جائے گا جھومتا لہراتا للچاتا چلا کیا پتا کس دیس بادل جائے گا پھونکنے سے قبل ہمسائے کا گھر یہ نہ سوچا اپنا گھر جل جائے گا فیضیؔ کتنے با وفا ہوتے ہیں دوست وقت پڑتے ہی پتا چل جائے ...

مزید پڑھیے

رستے میں شام ہو گئی قصہ تمام ہو چکا

رستے میں شام ہو گئی قصہ تمام ہو چکا جو کچھ بھی تھا اے زندگی وہ تیرے نام ہو چکا کب کی گزر گئی وہ شب جس میں کسی کا نور تھا کب کی گلی میں دھوپ ہے جینا حرام ہو چکا پھرتے رہیں نگر نگر کوچہ بہ کوچہ در بہ در اپنے خیام جل چکے اپنا سلام ہو چکا رات میں باقی کچھ نہیں نیند میں باقی کچھ ...

مزید پڑھیے

دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے

دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے جس کی آنکھیں جھیلوں جیسی جس کے ہونٹ رسیلے تھے جس کو کھو کر خاک ہوئے ہم آج اسے بھی دیکھا تو ہنستی آنکھیں افسردہ تھیں ہونٹ بھی نیلے نیلے تھے جن کو چھو کر کتنے زیدیؔ اپنی جان گنوا بیٹھے میرے عہد کی شہنازوںؔ کے جسم بڑے زہریلے ...

مزید پڑھیے

برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئی

برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئی ہم کو بھی اب تو خاک ہوئے دیر ہو گئی اب ساحلوں پہ کس کو صدا دے رہے ہو تم لمحوں کے بادبان کھلے دیر ہو گئی اے حسن خود پرست ذرا سوچ تو سہی مہر و وفا سے تجھ کو ملے دیر ہو گئی تیرا وصال خیر اب اک واقعہ ہوا اب اپنے آپ سے بھی ملے دیر ہو گئی صدیوں کی ریت ...

مزید پڑھیے

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم اپنے ہی آپ میں اک حشر اٹھائے گئے ہم زندگی دیکھ کہ احسان ترے کتنے ہیں دل کے ہر داغ کو آئینہ بنائے گئے ہم پھر وہی شام وہی درد وہی اپنا جنوں جانے کیا یاد تھی وہ جس کو بھلائے گئے ہم کن دریچوں کے چراغوں سے ہمیں نسبت تھی کہ ابھی جل نہیں پائے کہ ...

مزید پڑھیے

بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا

بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا پھر اس کے بعد مرتب نیا نصاب کیا تھکن سمیٹ کے صدیوں کی جب گرے خود پر تجھے خود اپنے ہی اندر سے بازیاب کیا پھر اس کے بعد ترے عشق کو لگایا گلے ہر ایک سانس کو اپنے لیے عذاب کیا اگر وجود میں آ کر اسے نہ ملنا تھا ہمیں کیوں بھیج کے اس دہر میں خراب کیا اسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4360 سے 6203