قومی زبان

حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتا

حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتا کیسا ہوتا ہے خدا تم کو میں دکھلا سکتا اس سفر پہ ہوں کہ ہلکان ہوا جاتا ہوں اور کہاں جانا ہے یہ بھی نہیں بتلا سکتا ہارنا بھی ہے یقینی پہ مری فطرت ہے ایک ہی چال ہمیشہ نہیں دہرا سکتا زندگی اب تو مجھے اور کھلونے لا دے ایسے خوابوں سے تو میں دل نہیں ...

مزید پڑھیے

بھگت سنگھ کے نام

کہیں جب سرفروشی کی محبت استقامت کی شہادت کی وطن کی بات چلتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو یہ دھارے رک نہیں سکتے ستارے جھک نہیں سکتے کنارے دیکھتے رہنا نظارے رک نہیں سکتے ہوا بہتی ہی رہتی ہے سمندر سے سمندر تک لہو دریافت کرتا ہے نئی تحریک کا منشور یہ کرنیں درج کرتی ہیں ہر اک دھرتی پہ ہونے کا ...

مزید پڑھیے

سبز رتوں میں قدیم گھروں کی خوشبو

جن گلیوں کا سورج رستہ بھول گیا ہو ان میں کسی بھی آہٹ کا کوئی گیت نہیں گونجا کرتا بوسیدہ دروازے کھڑکیاں بل کھاتے چوبی زینوں پر ناچتی رہتی ہے ویرانی گرد و غبار میں ڈوبے کمرے آپس میں باتیں کرتے ہیں بند دریچے سانپوں جیسی آنکھوں سے دور دراز کو جانے والی سبز رتوں کی یادوں میں روتے ...

مزید پڑھیے

وہ اور میں....

اس کو مرے خوابوں کا رستہ جانے کس نے دکھایا ہے میں جب آدھی رات کو تھک کر اپنے آپ پہ گرتا ہوں وہ چپکے سے آ جاتی ہے سبز سنہرے خواب لیے نرم گلابی ہاتھوں سے مرے بالوں کو سلجھاتی ہے دھیمے سروں میں فیضؔ کی نظم سناتی ہے میں اس کو دیکھتا رہتا ہوں نیند میں جاگتا رہتا ہوں اور وہ میرے بازو ...

مزید پڑھیے

اے مبارز طلب

عشق کی تند خیزی کے اوقات آخر ہوئے اے مبارز طلب زندگی الوداع الوداع..... اپنے اوقات آخر ہوئے خواب کی لہر میں درد کے شہر میں گرد..... رخت سفر دل لہو میں ہے تر زندگی کٹ گئی تیغ کی دھار پر سجدہ کرتے جبیں کتنی زخمی ہوئی اور خدا آج تک ہم سے راضی نہیں اور زمیں سخت ہے منزلیں گرد ہیں بادلوں کی ...

مزید پڑھیے

''لا'' بھی ہے ایک گماں

تم نے کیا دیکھا یہاں کچھ بھی نہیں ہم نے کیا پایا یہاں کچھ بھی نہیں ''بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں'' ''لا'' سے آغاز فسانے کا ہوا ''لا'' سے تہذیب زمانے کی ہوئی ''لا'' کی تفسیر نہیں ہے ممکن ''لا'' ہی سے عشق کا آغاز ہوا عشق ہے ایک بلا عشق سفاک و ہوس ناک دریدہ دامن جس کے قدموں سے بپھرتے ...

مزید پڑھیے

مجھے کون بلاتا رہتا ہے

''مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں کسی اور زمیں کی مٹی ہے'' مرے ہاتھ میں وقت کی راسیں ہیں جو پل پل پھسلی جاتی ہیں اور ہرے درختوں کی شاخیں مرا رستہ جھانکتی رہتی ہیں اور سبز گھنیرا جنگل ہے مرے پاؤں کے نیچے چاند نہیں اک اور ہی دیس کی مٹی ہے اور دھوپ کا دریا موج میں ہے اور دشت مرے قدموں سے ...

مزید پڑھیے

دن اترتے ہی نئی شام پہن لیتا ہوں

دن اترتے ہی نئی شام پہن لیتا ہوں میں تری یادوں کا احرام پہن لیتا ہوں میرے گھر والے بھی تکلیف میں آ جاتے ہیں میں جو کچھ دیر کو آرام پہن لیتا ہوں رات کو اوڑھ کے سو جاتا ہوں دن بھر کی تھکن صبح کو پھر سے کئی کام پہن لیتا ہوں جب بھی پردیس میں یاد آتا ہے گھر کا نقشہ میں تصور میں در و ...

مزید پڑھیے

نہ تو ہم بحر سے واقف نہ سخن جانتے ہیں

نہ تو ہم بحر سے واقف نہ سخن جانتے ہیں کیسے دیں لفظوں کو ترتیب یہ فن جانتے ہیں وہ کسی طور بھی تجھ کو نہ لگائیں گے گلے اے خوشی جو بھی ترا چال چلن جانتے ہیں دل کے مندر میں ہیں دو ایک پجاری ایسے جو نہ پوجا نہ عبادت نہ بھجن جانتے ہیں اس لئے تھام کے رکھا ہے جنوں کا دامن اے خرد ہم ترا ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے ہیں بہت ہم نے کمائی دنیا

لوگ کہتے ہیں بہت ہم نے کمائی دنیا آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی دنیا جب نظر نامۂ اعمال کے دفتر پہ پڑی نیکیوں پر مجھے ابھری نظر آئی دنیا ظاہری آنکھوں سے دیکھو تو دکھائی دے پہاڑ باطنی آنکھوں سے دیکھو تو ہے رائی دنیا یہ قدم تیرے تعاقب میں چلے ہیں کتنا یہ بتائے گی مری آبلہ پائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4359 سے 6203