قومی زبان

بے بسی گیت بنتی رہتی ہے

خواب گرمی کی چھٹیوں پہ گئے ہو گئے بند گیٹ آنکھوں کے عشق کو داخلہ ملا ہی نہیں خواہشیں لاکروں میں قید رہیں جو بکے اس کے دام اچھے ہوں زندگی ہو کہ کوئی تتلی ہو بے ثباتی کے رنگ کچے ہیں کون بتلائے ان زمینوں کو جنگلوں کے گھنے درختوں میں گر خزاں بیلے ڈانس کرتی ہو مصر کو کون یاد کرتا ہے کم ...

مزید پڑھیے

اور خدا خاموش تھا

ایک بوسے کی طلب میں جسم کبڑے ہو گئے زندگی پانی ہوئی آسماں سے کہکشاؤں کی بہار آگ برساتی رہی زندگی فٹ پاتھ پر ایک روٹی کی طلب میں ہاتھ پھیلاتی رہی قطرہ قطرہ بے بسی تیزاب سی جسم پگھلاتی رہی ردی چنواتی رہی نیٹی جیٹی پر کھڑی خلق خدا ہنستی رہی اور خدا خاموش تھا

مزید پڑھیے

سارباں

سارباں نکلے تھے جس وقت گھروں سے اپنے آشیانوں کو پرندے بھی نہیں چھوڑتے جب راستے رستوں کی آغوش ہی میں سوئے تھے اور ہوا سبز پہاڑوں سے نہیں اتری تھی آسماں پر ابھی تاروں کی سجی تھی محفل سارباں نکلے تھے جس وقت گھروں سے اپنے رنگ خوابوں میں ابھی گھلتے تھے جسم میں وصل کی لذت کا نشہ باقی ...

مزید پڑھیے

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں

سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیں کھلا کہ کوئی بھی لمحہ ٹھہرنے والا نہیں کوئی بھی رستہ کسی سمت کو نہیں جاتا کوئی سفر مری تکمیل کرنے والا نہیں ہوا کی ابر کی کوشش تو پوری پوری ہے مگر دھویں کی طرح میں بکھرنے والا نہیں میں اپنے آپ کو بس ایک بار دیکھوں گا پھر اس کے بعد کسی سے ...

مزید پڑھیے

دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہنا

دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہنا شناسؔ مجھ کو بھی پھر در بدر نہیں رہنا اگر میں آؤں گا صدیوں کی عمر لاؤں گا کہ تیرے پاس مجھے مختصر نہیں رہنا یہ کائنات مری انگلیوں پہ ناچتی ہے مجھے ستاروں کے زیر اثر نہیں رہنا میں جانتا ہوں مگر دل کو کون سمجھائے شناسؔ اس کو مرا ہم سفر نہیں رہنا

مزید پڑھیے

لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیا

لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیا پھر اس کے ساتھ ہی آنکھیں گئیں بدن بھی گیا بدلتے وقت نے بدلے مزاج بھی کیسے تری ادا بھی گئی میرا بانکپن بھی گیا بس ایک بار وہ آیا تھا سیر کرنے کو پھر اس کے ساتھ ہی خوشبو گئی چمن بھی گیا بس اک تعلق بے نام ٹوٹنے کے بعد سخن تمام ہوا رشتۂ سخن بھی ...

مزید پڑھیے

میں یوں جہاں کے خواب سے تنہا گزر گیا

میں یوں جہاں کے خواب سے تنہا گزر گیا جیسے کہ ایک دشت سے دریا گزر گیا یوں جگمگا اٹھا ہے تری یاد سے وجود جیسے لہو سے کوئی ستارہ گزر گیا گزرا مرے قریب سے وہ اس ادا کے ساتھ رستے کو چھو کے جس طرح رستہ گزر گیا منظر میں گھل گئے ہیں دھنک کے تمام رنگ بے رنگ آئینے سے وہ لمحہ گزر گیا

مزید پڑھیے

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا کہ شام بیت گئی اور تو نہیں آیا جہاں سے میں نے کیا تھا کبھی سفر آغاز میں خاک دھول ہوا لوٹ کر وہیں آیا وہ جس کے ہاتھ سے تقریب دل نمائی تھی ابھی وہ لمحۂ موجود میں نہیں آیا بس ایک بار مری نیند چھو گیا کوئی پھر اس کے بعد ہر اک خواب دل نشیں آیا بچھڑ کے ...

مزید پڑھیے

ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر

ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر سو ہم نے رنج اٹھائے حساب سے باہر اسی امید پہ گزری ہے زندگی ساری کبھی تو ہم سے ملوگے حجاب سے باہر تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے دل سے نشہ چھلکتا نہیں ہے شراب سے باہر کسی کے دل میں اترنا ہے کار لا حاصل کہ ساری دھوپ تو ہے آفتاب سے باہر شناسؔ کھول ...

مزید پڑھیے

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا تمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیا تباہ کر گیا اک لمحۂ خراب مجھے کہ میں نے حلقۂ آوارگاں کو چھوڑ دیا کہیں پناہ نہیں ملتی لمحہ بھر کے لیے کہ جب سے محفل دل دادگاں کو چھوڑ دیا بس ایک کنج خس و خاک میں سکون ملا سو میں نے حلقۂ سیارگاں کو چھوڑ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4358 سے 6203