بے بسی گیت بنتی رہتی ہے
خواب گرمی کی چھٹیوں پہ گئے ہو گئے بند گیٹ آنکھوں کے عشق کو داخلہ ملا ہی نہیں خواہشیں لاکروں میں قید رہیں جو بکے اس کے دام اچھے ہوں زندگی ہو کہ کوئی تتلی ہو بے ثباتی کے رنگ کچے ہیں کون بتلائے ان زمینوں کو جنگلوں کے گھنے درختوں میں گر خزاں بیلے ڈانس کرتی ہو مصر کو کون یاد کرتا ہے کم ...