قومی زبان

سب کھیل تماشا ختم ہوا

جب شام کی پلکیں تھرائیں یادوں کی آنکھیں بھر آئیں ہر لہر میں ایک سمندر تھا جو دل کو بہا لے جاتا تھا ساحل سے دور جزیروں پر دل بہتے بہتے ڈوب گیا پھر رات ہوئی پھر ہوا میں آنسو گھلنے لگے پھر خوابوں کی محرابوں میں میں گھر کا رستہ بھول گیا پھر سانس سے پہلے موت آئی اور کھیل تماشا ختم ...

مزید پڑھیے

زندگی سے مکالمہ

زندگی ہو گئی ہے بے ترتیب اب ٹھکانے پہ کوئی چیز نہیں کچھ یہاں تھا مگر یہاں کب ہے کچھ وہاں ہے مگر وہاں کب ہے اب سر جلوہ گاہ کوئی نہیں جو بھی ہے رونما گماں ہی تو ہے ''ہونا'' ہونے کا اک نشاں ہی تو ہے شام میں گھل گیا ہے خواب کا رنگ دل میں کوئی دیا جلے نہ جلے خواب اپنے کمال کو پہنچا کسی ...

مزید پڑھیے

ہمارے شجرے بکھر گئے ہیں

گماں کی بے رنگ ساعتوں میں نواح کرب و بلا سے دربار شام تک ہم لہو کی اک ایک بوند کا سب خراج دے کر تمام قرضے چکاتے آئے شکستہ دہلیز لہو کی محراب سناں کا منبر ہماری عزت بڑھاتے آئے وہ ہم ہی تھے جو قیام کرتے رکوع میں جھکتے زکوٰۃ دے کر خود اپنے حصے کا طعام دے کر درود و صلوٰۃ پڑھتے آئے وہ ہم ...

مزید پڑھیے

راہداری میں گونجتی نظم

بارہ دری میں چاند سر شام ہو گیا رہ داریوں کے پردے اڑاتی رہی ہوا مشعل تلے غلام کی تلوار کھو گئی برجی پہ جب ستارہ گرا رات تھی بہت اور شاہ وقت اپنے ہی نشے میں مست تھا پشواز نیچے دائرہ اس کو نہیں ملا بارہ دری میں آگ لگی تھی لگی رہی اور بانسری کے نے کہیں خاموش رہ گئی اور چاند شاہزادی کے ...

مزید پڑھیے

خودکشی کے پل پر

خودکشی کے پل پر سمندر کی لہروں میں بہتی فسردہ و ناکام جسموں کی روحیں بلاتی ہیں مجھ کو چلے آؤ ہر غم سے دامن چھڑا لو مٹا دو فنا ہونے والے بدن کو مٹا دو فنا سے نہ ڈرنا یہی اصل میں زندگی ہے اسی میں حقیقی خوشی ہے سمندر کی لہروں میں سیال روحوں کے گیتوں میں بے حد کشش ہے یہ دل چاہتا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

علی بابا کوئی سم سم

علی بابا یہ عجلت ہمتوں کو پست کرتی ہے محبت راستے میں موت کو تجویز کرتی ہے ہوس تیری گھنے جنگل سے چوروں کو مری بستی میں لے آئی وہ چالیس چور..... بستی کے گلی کوچوں میں اب مقتل سجاتے ہیں علی بابا خزانہ پانے کی عجلت ترے ماضی کی محرومی کا ابتر شاخسانہ ہے یہ تیری بد نصیبی سے بھی بد تر اک ...

مزید پڑھیے

صبر کی چادر تہہ کر دی

کوئی آگ پئے کہ زہر پئے یا سانپ ڈسے کی موت مرے اب دھوپ کے جل تھل دریا سے کوئی اپنے منہ میں ریت بھرے ہم نے تو پیالہ الٹ دیا اور الٹ دیا ہر اک منظر جب شام کی آنکھیں خون ہوئیں اور بودلہ بوٹی بوٹی تھی یہ بستی ظلم کی ظلمت میں تب کچی دھوپ چباتی تھی اور دریا پیتی جاتی تھی مسواک زمین میں گاڑ ...

مزید پڑھیے

آئینہ دیکھتے ہو

اس کے آداب تو پہلے سیکھو خاک میں خون رگ جاں تو ملا کر دیکھو آنکھ دریا تو بنا کر دیکھو شام کی ٹھنڈی ہوا راستوں کو دے گی بوسے خواب آنکھوں میں سمندر کا اتر آئے گا رنگ میں رنگ ملیں گے گیت پھر چھیڑیں گے دریا کے کنارے اشجار آئینہ دیکھتے ہو سطح دریا پہ جہاں کائی بنے آئینہ چاندنی جھیل کی ...

مزید پڑھیے

قصہ تمام

خاک میں خاک ملی اور ہوا قصہ تمام آگ میں آگ ملے تو بھڑکے آب میں آب ملے تو مچلے خاک میں خاک ملے اور ہو سب قصہ تمام جیسے سائے پہ گرا ہو سایہ جیسے چھا جائے شام گرم پر شور سے دن کا یہ بھیانک انجام وقت بے رحم غضب ناک بلا کا سفاک وقت وہ سیل رواں جس کے آگے جو چلے وہ بھی مرے جس سے پیچھے جو رہے ...

مزید پڑھیے

شب گردوں کے لیے اک نظم

رات ہے بردہ فروش اس کے بہکائے ہوئے ہوش میں کب آئے ہیں اپنے آنچل کے ستارے بھی جو نیلام کرے اس کی بانہوں میں جو بہکا ہے وہ سنبھلا ہی نہیں اس کی باتوں میں جو آیا وہ کبھی سویا نہیں جس کے پیکر کو ہوا نے بھی کبھی مس نہ کیا رات پرکار فسوں زار اور آشفتہ مزاج جس کی آنکھوں کو کسی خواب نے بوسہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4357 سے 6203