قومی زبان

چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں

چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں کسی آسیب کا سایہ ہے یہاں کوئی آواز سی ہے مرثیہ خواں شہر کا شہر بنا گورستاں ایک مخلوق جو بستی ہے یہاں جس پہ انساں کا گزرتا ہے گماں خود تو ساکت ہے مثال تصویر جنبش غیر سے ہے رقص کناں کوئی چہرہ نہیں جز زیر نقاب نہ کوئی جسم ہے جز بے دل و جاں علما ہیں دشمن ...

مزید پڑھیے

پتھر سے وصال مانگتی ہوں

پتھر سے وصال مانگتی ہوں میں آدمیوں سے کٹ گئی ہوں شاید پاؤں سراغ الفت مٹھی میں خاک بھر رہی ہوں ہر لمس ہے جب تپش سے عاری کس آنچ سے یوں پگھل رہی ہوں وہ خواہش بوسہ بھی نہیں اب حیرت سے ہونٹ کاٹتی ہوں اک طفلک جستجو ہوں شاید میں اپنے بدن سے کھیلتی ہوں اب طبع کسی پہ کیوں ہو ...

مزید پڑھیے

کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں

کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمت کشش عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں وہ اک صدا جو فریب صدا سے بھی کم ہے نہ ڈوب جائے کہیں تند رو ہواؤں میں سکوت شام ہے اور میں ہوں گوش بر آواز کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں ...

مزید پڑھیے

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا

یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا جو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکل ترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سے اس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھی میری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا پھر ...

مزید پڑھیے

اب سو جاؤ

اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے والے ہو اور اچھی قسمت رکھتے ہو بچے کی سو بھولی صورت اب تک ضد کرنے کی عادت کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں کچھ سینے میں چبھتی یادیں اب انہیں بھلا دو سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو سو جاؤ تم شہزادے ہو اور کتنے ...

مزید پڑھیے

میرے ہاتھ

دل میں کب سے رم جھم کرتی کیسی برکھا برس رہی ہے اس برکھا کے امرت رس سے بھیگ چکی میں بھیگ چکی میں لگتی چھپتی دھوپ اور بادل یہ آکاش کے ننھے بالک کھیل رہے ہیں ہنستے ہنستے کلکاری بھرتے سبزے کو شوخ ہوائیں چھیڑ رہی ہیں میں بھی اپنے پنکھ جھٹک کر پر تولوں اور بھروں اڑانیں اپنے بدن میں خود ...

مزید پڑھیے

دلی تری چھاؤں…

دلی! تری چھاؤں بڑی قہری مری پوری کایا پگھل رہی مجھے گلے لگا کر گلی گلی دھیرے سے کہے'' تو کون ہے ری؟'' میں کون ہوں ماں تری جائی ہوں پر بھیس نئے سے آئی ہوں میں رمتی پہنچی اپنوں تک پر پریت پرائی لائی ہوں تاریخ کی گھور گپھاؤں میں شاید پائے پہچان مری تھا بیج میں دیس کا پیار گھلا پردیس ...

مزید پڑھیے

اک حرف مدعا

اک حرف مدعا تھا لبوں پہ کھٹکتا تھا پھانس سا اک نام تھا زبان کا چھالا بنا ہوا لو میں زباں تراش کے خاموش ہو گئی لو اب تو میری آنکھ میں آنسو نہیں کوئی بس ایک میرا گنگ مرا حرف مدعا

مزید پڑھیے

خاکم بدہن

میں عازم مے خانہ تھی کل رات کہ دیکھا اک کوچۂ پر شور میں اصحاب طریقت تھے دست و گریباں خاکم بدہن پیچ عماموں کے کھلے تھے فتووں کی وہ بوچھاڑ کہ طبقات تھے لرزاں دستان مبارک میں تھیں ریشان مبارک موہائے مبارک تھے فضاؤں میں پریشاں کہتے تھے وہ باہم کہ حریفان سیہ رو کفار ہیں بد خو زندیق ...

مزید پڑھیے

بیٹھا ہے میرے سامنے وہ

بیٹھا ہے میرے سامنے وہ جانے کسی سوچ میں پڑا ہے اچھی آنکھیں ملی ہیں اس کو وحشت کرنا بھی آ گیا ہے بچھ جاؤں میں اس کے راستے میں پھر بھی کیا اس سے فائدہ ہے ہم دونوں ہی یہ تو جانتے ہیں وہ میرے لیے نہیں بنا ہے میرے لیے اس کے ہاتھ کافی اس کے لیے سارا فلسفہ ہے میری نظروں سے ہے پریشاں خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4349 سے 6203