قومی زبان

مقابلۂ حسن

کولھوں میں بھنور جو ہیں تو کیا ہے سر میں بھی ہے جستجو کا جوہر تھا پارۂ دل بھی زیر پستاں لیکن مرا مول ہے جو ان پر گھبرا کے نہ یوں گریز پا ہو پیمائش میری ختم ہو جب اپنا بھی کوئی عضو ناپو!

مزید پڑھیے

ایک رات کی کہانی

بڑی سہانی سی رات تھی وہ ہوا میں انجانی کھوئی کھوئی مہک رچی تھی بہار کی خوش گوار حدت سے رات گلنار ہو رہی تھی روپہلے سپنے سے آسماں پر سحاب بن کر بکھر گئے تھے اور ایسی اک رات ایک آنگن میں کوئی لڑکی کھڑی ہوئی تھی خموش تنہا وہ اپنی نازک حسین سوچوں کے شہر میں کھو کے رہ گئی تھی دھنک کے ...

مزید پڑھیے

باکرہ

آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفید ریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانند پیاس حلقوم میں ہے جسم میں ہے جان میں ہے سر بہ زانو ہوں جھلستے ہوئے ریگستاں میں تیری سرکار میں لے آئی ہوں یہ وحش ذبیح! مجھ پہ لازم تھی جو قربانی وہ میں نے کر دی اس کی ابلی ہوئی آنکھوں میں ابھی تک ہے چمک اور ...

مزید پڑھیے

تہنیت

کتنے بخت والے ہو زندگی میں جو چاہا تم نے پا لیا آخر عزم اور ہمت سے فہم سے ذکاوت سے ہے تمہارے دامن میں پھول کامرانی کا اور تمہارے ماتھے پر فخر کا ستارہ ہے اب تمہارے چہرے پر ایسی شادمانی ہے کوئی کہہ نہیں سکتا درد سے بھی واقف ہو اور تمہارے پاؤں میں دیر سے کھٹکتا ہے آرزو کا اک کانٹا جس ...

مزید پڑھیے

عشق آوارہ مزاج

عشق آوارہ مزاج وہ مسافر تو گیا نہ کوئی اس کی مہک ہے کہ جو دے اس کا پتہ نہ کوئی نقش کف پا نہ کوئی اس کا نشاں کوئی تلخی بھی تہہ جام نہ چھوڑی اس نے زندگی باقی ہے ایک سنجیدہ ہنسی سوچ سی دل میں بسی تیز آئی ہوئی سانس ذہن میں تھوڑے سے وقفے سے کھٹکتی ہوئی پھانس اور دکھتا ہوا دل چوٹ تھی جس پہ ...

مزید پڑھیے

تفصیل مسافت کی

اک دن جو بہم ہوں گے تجھ سے ترے درماندہ کیا عرض گزاریں گے کیا حال سنائیں گے موہوم کشیدہ ہے تصویر قیامت کی شاید نہ سنا پائیں تفصیل مسافت کی لب بستہ رہیں شاید یہ دن جو گزارے ہیں محرم ہے کوئی کس کا یا زخم کی سرگوشی یا ہمارے ہیں آنکھوں پہ کئے سایہ کب دور تلک دیکھا لرزاں تھی زمیں کس ...

مزید پڑھیے

طفلاں کی تو کچھ تقصیر نہ تھی

اے دوست پرانے پہچانے ہم کتنی مدت بعد ملے اور کتنی صدیوں بعد ملی یہ ایک نگاہ مہر و سخا جو اپنی سخا سے خود پر نم بیٹھو تو ذرا بتلاؤ تو کیا یہ سچ ہے میرے تعاقب میں پھرتا ہے ہجوم سنگ زناں؟ کیا نیل بہت ہیں چہرے پر؟ کیا کاسۂ سر ہے خون سے تر؟ پیوند قبا دشنام بہت پیوست جگر الزام بہت یہ نظر ...

مزید پڑھیے

تجارت

اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہے غور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہے ہند کی تاریخ پڑھ کر ہی سبق حاصل کرو جو تجارت کرنے آئے تھے اب ان کا راج ہے زندہ رہ سکتا نہیں ہرگز تجارت کے بغیر ہم نے یہ مانا کہ یورپ مرکز افواج ہے ہر دکان اپنی جگہ ہے ایک چھوٹی سلطنت نفع کہتے ہیں جسے دراصل ...

مزید پڑھیے

یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا

یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا تو نخ بہ نخ کہیں پیوست ریشۂ دل تھا مجھے مآل سفر کا ملال کیوں کر ہو کہ جب سفر ہی مرا فاصلوں کا دھوکا تھا میں جب فراق کی راتوں میں اس کے ساتھ رہی وہ پھر وصال کے لمحوں میں کیوں اکیلا تھا وہ واسطے کی ترا درمیاں بھی کیوں آئے خدا کے ساتھ مرا جسم کیوں نہ ...

مزید پڑھیے

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے یا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہے جب سر میں نہیں عشق تو چہرے پہ چمک ہے یہ نخل خزاں آئی تو شاداب ہوا ہے کیا میرا زیاں ہے جو مقابل ترے آ جاؤں یہ امر تو معلوم کہ تو مجھ سے بڑا ہے میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں اے ظاہر و موجود مرا جسم دعا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4348 سے 6203