متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے
متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے
واقف حرمان و یاس رہتا ہے دل ہے اکثر اداس رہتا ہے تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
فضائے دل پہ اداسی بکھرتی جاتی ہے فسردگی ہے کہ جاں تک اترتی جاتی ہے فریب زیست سے قدرت کا مدعا معلوم یہ ہوش ہے کہ جوانی گزرتی جاتی ہے
نہ آج لطف کر اتنا کہ کل گزر نہ سکے وہ رات جو کہ ترے گیسوؤں کی رات نہیں یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں
وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں ہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیں ہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیں شباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیں وقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں ادائے لغزش پا پر قیامتیں قرباں بیاض رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں سیاہ زلفوں میں ...
میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں لکھا گیا ہے بہت لطف وصل و درد فراق مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہم دم مہ و سال اس عشق خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے ''گزر گیا ہے زمانہ گلے ...
آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی خواب در خواب محلات کے در وا ہیں کئی اور مکیں کوئی نہیں ہے، آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت کوئی امید، کوئی آس مسافر صورت کوئی غم، کوئی کسک، کوئی شک، کوئی یقیں کوئی نہیں ہے آج شب دل ...
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
صبح پھوٹی تو آسماں پہ ترے رنگ رخسار کی پھوہار گری رات چھائی تو روئے عالم پر تیری زلفوں کی آبشار گری
پھر حشر کے ساماں ہوئے ایوان ہوس میں بیٹھے ہیں ذوی العدل گنہ گار کھڑے ہیں ہاں جرم وفا دیکھیے کس کس پہ ہے ثابت وہ سارے خطا کار سر دار کھڑے ہیں