قومی زبان

درد آئے گا دبے پاؤں

اور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کو فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا حلقۂ زلف کہیں گوشۂ رخسار کہیں ہجر کا دشت کہیں گلشن دیدار کہیں لطف کی ...

مزید پڑھیے

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

موتی ہو کہ شیشہ جام کہ در جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے جو ٹوٹ گیا سو چھوٹ گیا تم ناحق ٹکڑے چن چن کر دامن میں چھپائے بیٹھے ہو شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں کیا آس لگائے بیٹھے ہو شاید کہ انہیں ٹکڑوں میں کہیں وہ ساغر دل ہے جس میں کبھی صد ناز سے اترا کرتی تھی صہبائے غم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4329 سے 6203