ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
آ گئی فصل سکوں چاک گریباں والو سل گئے ہونٹ کوئی زخم سلے یا نہ سلے دوستو بزم سجاؤ کہ بہار آ گئی ہے کھل گئے زخم کوئی پھول کھلے یا نہ کھلے
نہ پوچھ جب سے ترا انتظار کتنا ہے کہ جن دنوں سے مجھے تیرا انتظار نہیں ترا ہی عکس ہے ان اجنبی بہاروں میں جو تیرے لب ترے بازو ترا کنار نہیں
جو پیرہن میں کوئی تار محتسب سے بچا دراز دستئ پیر مغاں کی نذر ہوا اگر جراحت قاتل سے بخشوا لائے تو دل سیاست چارہ گراں کی نذر ہوا
نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے امید یار نظر کا مزاج درد کا رنگ تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے
دل رہین غم جہاں ہے آج ہر نفس تشنۂ فغاں ہے آج سخت ویراں ہے محفل ہستی اے غم دوست تو کہاں ہے آج
یہ خوں کی مہک ہے کہ لب یار کی خوشبو کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو گلشن میں بہار آئی کہ زنداں ہوا آباد کس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو
زنداں زنداں شور انا الحق محفل محفل قل قل مے خون تمنا دریا دریا دریا دریا دریا عیش کی لہر دامن دامن رت پھولوں کی آنچل آنچل اشکوں کی قریہ قریہ جشن بپا ہے ماتم شہر بہ شہر
اور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کو فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا حلقۂ زلف کہیں گوشۂ رخسار کہیں ہجر کا دشت کہیں گلشن دیدار کہیں لطف کی ...
موتی ہو کہ شیشہ جام کہ در جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے جو ٹوٹ گیا سو چھوٹ گیا تم ناحق ٹکڑے چن چن کر دامن میں چھپائے بیٹھے ہو شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں کیا آس لگائے بیٹھے ہو شاید کہ انہیں ٹکڑوں میں کہیں وہ ساغر دل ہے جس میں کبھی صد ناز سے اترا کرتی تھی صہبائے غم ...