جدھر منہ اپنے کو وہ عیسیٔ زماں پھیرے
جدھر منہ اپنے کو وہ عیسیٔ زماں پھیرے تو اک نگاہ سے مردوں کے تن میں جاں پھیرے وہ تو ہے کافر رہزن کہ اک اشارے میں جو سمت کعبے کے جاتا ہو کارواں پھیرے تری جفاؤں سے یوں دل کے پھیرنے کے لیے کہے ہزار کوئی تجھ سے پر کہاں پھیرے کر اے عزیز ہر اک نیک و بد کی دل میں راہ نہ کر وہ کام کہ منہ ...