کتنوں کو جگر کا زخم سیتے دیکھا
کتنوں کو جگر کا زخم سیتے دیکھا دیکھا جسے خون دل ہی پیتے دیکھا اب تک روتے تھے مرنے والوں کو اور اب ہم رو دیے جب کسی کو جیتے دیکھا
کتنوں کو جگر کا زخم سیتے دیکھا دیکھا جسے خون دل ہی پیتے دیکھا اب تک روتے تھے مرنے والوں کو اور اب ہم رو دیے جب کسی کو جیتے دیکھا
ہم سے مل کر کوئی گفتگو کیجیے پوری دل کی یہی جستجو کیجیے آپ کی دشمنی کا میں ہوں معترف وار کیجے مگر دو بدو کیجیے دامن دل کی لاکھوں ہوئیں دھجیاں کیجیے کیجیے اب رفو کیجیے پھول موسم میں کانٹوں کے بیوپار سے جسم و جان و جگر مت لہو کیجیے زندگی ہو مگر درد ہجراں نہ ہو ایسے جینے کی کیا ...
رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے تیرا تو اے ستمگر ارمان رہ نہ جائے جو دل کی حسرتیں ہیں سب دل میں ہوں تو بہتر اس گھر سے کوئی باہر مہمان رہ نہ جائے اقرار وصل تو ہے ایسا نہ ہو نہ آئیں مشکل ہماری ہو کر آسان رہ نہ جائے اے سوز غم جلا دے اے درد خوں رلا دے کچھ ان کی دل لگی کا سامان رہ نہ ...
جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہے اب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہے گم ہیں رہ تسلیم میں طالب بھی طلب بھی سجدہ ہی در یار ہے سجدہ ہی جبیں ہے کچھ مظہر باطن ہوں تو کچھ محرم ظاہر میری ہی وہ ہستی ہے کہ ہے اور نہیں ہے ایذا کے سوا لذت ایذا بھی ملے گی کیوں جلوہ گہ ہوش یہاں دل بھی ...
شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ دل ہی چھوٹ گیا ساری امیدیں ٹوٹ گئیں دل بیٹھ گیا جی چھوٹ گیا فصل گل آئی یا اجل آئی کیوں در زنداں کھلتا ہے کیا کوئی وحشی اور آ پہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا لیجیے کیا دامن کی خبر اور دست جنوں کو کیا کہئے اپنے ہی ہاتھ سے دل کا دامن مدت گزری چھوٹ ...
مآل سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤ بھڑک اٹھی ہے شمع زندگانی دیکھتے جاؤ چلے بھی آؤ وہ ہے قبر فانیؔ دیکھتے جاؤ تم اپنے مرنے والے کی نشانی دیکھتے جاؤ ابھی کیا ہے کسی دن خوں رلا دے گی یہ خاموشی زبان حال کی جادو بیانی دیکھتے جاؤ غرور حسن کا صدقہ کوئی جاتا ہے دنیا سے کسی کی خاک ...
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم دعا تو خیر دعا سے امید خیر بھی ہے یہ مدعا ہے تو انجام مدعا معلوم ہوا نہ راز رضا فاش وہ تو یہ کہیے مرے نصیب میں تھی ورنہ سعیٔ نا معلوم مری وفا کے سوا غایت جفا کیوں ہو تری جفا کے سوا حاصل وفا معلوم کچھ ان کے ...
وہ جی گیا جو عشق میں جی سے گزر گیا عیسیٰ کو ہو نوید کہ بیمار مر گیا آزاد کچھ ہوئے ہیں اسیران زندگی یعنی جمال یار کا صدقہ اتر گیا دنیا میں حال آمد و رفت بشر نہ پوچھ بے اختیار آ کے رہا بے خبر گیا شاید کہ شام ہجر کے مارے بھی جی اٹھیں صبح بہار حشر کا چہرہ اتر گیا آیا کہ دل گیا کوئی ...
سنگ در دیکھ کے سر یاد آیا کوئی دیوانہ مگر یاد آیا پھر وہ انداز نظر یاد آیا چاک دل تا بہ جگر یاد آیا ذوق ارباب نظر یاد آیا سجدہ بے منت سر یاد آیا ہر تبسم پہ یہ کھاتا ہوں فریب کہ انہیں دیدۂ تر یاد آیا پھر ترا نقش قدم ہے درکار سجدۂ راہ گزر یاد آیا جمع کرتا ہوں غبار رہ دوست سر ...
لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں دل پہ خدا کی مار کہ پھر بھی چین نہیں آرام نہیں جتنے منہ ہیں اتنی باتیں دل کا پتہ کیا خاک چلے جس نے دل کی چوری کی ہے ایک اسی کا نام نہیں جلوہ و دل میں فرق نہیں جلوے کو ہی اب دل کہتے ہیں یعنی عشق کی ہستی کا آغاز تو ہے انجام نہیں رک کے جو ...