دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیں
دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیں وہ میری بے خبری کی بھی خبر رکھتے ہیں درد میں لطف خلش کیف کشش پاتا ہوں کیا وہ پھر عزم تماشائے جگر رکھتے ہیں جس طرف دیکھ لیا پھونک دیا طور مجاز یہ ترے دیکھنے والے وہ نظر رکھتے ہیں خود تغافل نے دیا مژدۂ بیداد مجھے اللہ اللہ مرے نالے بھی اثر ...