قومی زبان

آخر اس کے حسن کی مشکل کو حل میں نے کیا

آخر اس کے حسن کی مشکل کو حل میں نے کیا ایک نثری نظم تھی جس کو غزل میں نے کیا کیا بلاغت آ گئی اس کے بدن کے متن میں چند لفظوں کا جو کچھ رد و بدل میں نے کیا باعث توہین ہے دل کے لیے تکرار جسم آج پھر کیسے کروں وہ سب جو کل میں نے کیا بزم ہو بازار ہو ساری نگاہیں مجھ پہ ہیں کیا ان آنکھوں کے ...

مزید پڑھیے

کس سلیقے سے وہ مجھ میں رات بھر رہ کر گیا

کس سلیقے سے وہ مجھ میں رات بھر رہ کر گیا شام کو بستر سا کھولا صبح کو تہہ کر گیا وقت رخصت تھا ہمارے باہر اندر اتنا شور کچھ کہا تھا اس نے لیکن جانے کیا کہہ کر گیا قتل ہوتے سب نے دیکھا تھا بھرے بازار میں یہ نہ دیکھا خوں مرا کس کی طرف بہہ کر گیا ڈوبنا ہی تھا سو ڈوبا چاند اس کے وصل ...

مزید پڑھیے

ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے

ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے شہر میں جو بھی ہوا ہے وہ خطا میری ہے یہ جو ہے خاک کا اک ڈھیر بدن ہے میرا وہ جو اڑتی ہوئی پھرتی ہے قبا میری ہے وہ جو اک شور سا برپا ہے عمل ہے میرا یہ جو تنہائی برستی ہے سزا میری ہے میں نہ چاہوں تو نہ کھل پائے کہیں ایک بھی پھول باغ تیرا ہے مگر باد ...

مزید پڑھیے

تو مجھ کو جو اس شہر میں لایا نہیں ہوتا

تو مجھ کو جو اس شہر میں لایا نہیں ہوتا میں بے سر و ساماں کبھی رسوا نہیں ہوتا اس کی تو یہ عادت ہے کسی کا نہیں ہوتا پھر اس میں عجب کیا کہ ہمارا نہیں ہوتا کچھ پیڑ بھی بے فیض ہیں اس راہ گزر کے کچھ دھوپ بھی ایسی ہے کہ سایا نہیں ہوتا خوابوں میں جو اک شہر بنا دیتا ہے مجھ کو جب آنکھ کھلی ...

مزید پڑھیے

اس کو ہے عشق بتانا بھی نہیں چاہتا ہے

اس کو ہے عشق بتانا بھی نہیں چاہتا ہے اور یہ بات چھپانا بھی نہیں چاہتا ہے سوچتا رہتا ہے دن بھر کہ مری رات میں آئے اپنے دن کو یہ جتانا بھی نہیں چاہتا ہے شاعری کو مرا اظہار سمجھتا ہے مگر پردۂ شعر اٹھانا بھی نہیں چاہتا ہے سائے کو جستجوئے جسم بہت ہے پھر بھی پہلوئے جسم میں آنا بھی ...

مزید پڑھیے

اک بھول سی ضرور کہیں کر رہے ہیں ہم

اک بھول سی ضرور کہیں کر رہے ہیں ہم کوئی ضروری کام نہیں کر رہے ہیں ہم چوما ہے جن لبوں ہزار ان کے خون معاف تو جھوٹ خوب بول یقیں کر رہے ہیں ہم باہر سے مر گئے ہیں کہ مارے نہ جا سکیں جینے کا کام زیر زمیں کر رہے ہیں ہم

مزید پڑھیے

میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں

میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں اور اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں ترے ہونٹوں کے صحرا میں تری آنکھوں کے جنگل میں جو اب تک پا چکا ہوں اس کو کھونا چاہتا ہوں میں یہ کچی مٹیوں کا ڈھیر اپنے چاک پر رکھ لے تری رفتار کا ہم رقص ہونا چاہتا ہوں میں ترا ساحل نظر آنے سے ...

مزید پڑھیے

تمہیں اس سے محبت ہے تو ہمت کیوں نہیں کرتے

تمہیں اس سے محبت ہے تو ہمت کیوں نہیں کرتے کسی دن اس کے در پہ رقص وحشت کیوں نہیں کرتے علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے تمہارے دل پہ اپنا نام لکھا ہم نے دیکھا ہے ہماری چیز پھر ہم کو عنایت کیوں نہیں کرتے مری دل کی تباہی کی شکایت پر کہا ...

مزید پڑھیے

زمیں نے لفظ اگایا نہیں بہت دن سے

زمیں نے لفظ اگایا نہیں بہت دن سے کچھ آسماں سے بھی آیا نہیں بہت دن سے یہ شہر وہ ہے کہ کوئی خوشی تو کیا دیتا کسی نے دل بھی دکھایا نہیں بہت دن سے عجیب لوگ ہیں بس راستوں میں ملتے ہیں کسی نے گھر ہی بلایا نہیں بہت دن سے تجھے بھلانا تو ممکن نہیں مگر یوں ہی ترا خیال ہی آیا نہیں بہت دن ...

مزید پڑھیے

پوری طرح سے اب کے تیار ہو کے نکلے

پوری طرح سے اب کے تیار ہو کے نکلے ہم چارہ گر سے ملنے بیمار ہو کے نکلے جادو بھری جگہ ہے بازار تم نہ جانا اک بار ہم گئے تھے بازار ہو کے نکلے مٹی کے راستوں پہ اترے عمارتوں سے واپس عمارتوں کے آثار ہو کے نکلے اپنی حقیقتوں کو جنگل بنایا ہم نے اور پھر کہانیوں کے کردار ہو کے نکلے آخر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4305 سے 6203