میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجب
میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجب جی سے بچے جو مجھ سا بیمار ہے تعجب وعدہ خلافیوں سے تیری ہے دل میں شبہہ ہووے جو حشر میں بھی دیدار ہے تعجب تم کہتے ہو کہ وہ آتا ہے پاس تیرے اس یار سے تو یارو بسیار ہے تعجب ہستی سے اک نفس کا ہے فاصلہ عدم تک تس پر بھی ہے پہنچنا دشوار ہے تعجب کافی نہ تھا ...