قومی زبان

میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجب

میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجب جی سے بچے جو مجھ سا بیمار ہے تعجب وعدہ خلافیوں سے تیری ہے دل میں شبہہ ہووے جو حشر میں بھی دیدار ہے تعجب تم کہتے ہو کہ وہ آتا ہے پاس تیرے اس یار سے تو یارو بسیار ہے تعجب ہستی سے اک نفس کا ہے فاصلہ عدم تک تس پر بھی ہے پہنچنا دشوار ہے تعجب کافی نہ تھا ...

مزید پڑھیے

جی چاہے کعبے جاؤ جی چاہے بت کو پوجو

جی چاہے کعبے جاؤ جی چاہے بت کو پوجو یہ سن رکھو محبؔ تم عاشق کبھو نہ ہوجو خوں سو دلوں کا ہوگا مشاطہ تیری گردن زلفوں کا اس کی ٹوٹا شانے سے ایک مو جو جس جا فرشتے کے پر جلتے ہوں پاؤں دھرتے دل اس گلی میں سر سے شایاں ہے جائے تو جو اک دم میں دیکھ لیجو پھر جیب پارہ پارہ بے فائدہ ہے ناصح ...

مزید پڑھیے

دنیا میں کیا کسی سے سروکار ہے ہمیں

دنیا میں کیا کسی سے سروکار ہے ہمیں تجھ بن تو اپنی زیست ہی دشوار ہے ہمیں تو ہی نہیں تو جان تری جان کی قسم یہ جان کس کے واسطے درکار ہے ہمیں گرتے ہیں دکھ سے تیری جدائی کے ورنہ خیر چنگے بھلے ہیں کچھ نہیں آزار ہے ہمیں مر بچ کے دن تو گزرے ہے جوں توں پر اس طرح نظروں میں نور مہر شب تار ہے ...

مزید پڑھیے

مے گلگوں کے جو شیشے میں پری رہتی ہے

مے گلگوں کے جو شیشے میں پری رہتی ہے چشم مستوں میں عجب جلوہ گری رہتی ہے ہے پھندیت ایک وہ بانکا کہ لڑے جب تک آنکھ مردمک پنجۂ مژگاں میں بھری رہتی ہے باغ میں جب وہ گل تازہ بہار آتا ہے بوئے گل پھر تو ہوا پر ہی دھری رہتی ہے نالہ بلبل ہے چمن زار ہے دل داغوں سے آہ تا صبح نسیم سحری رہتی ...

مزید پڑھیے

پہلے صف عشاق میں میرا ہی لہو چاٹ

پہلے صف عشاق میں میرا ہی لہو چاٹ شمشیر‌ نگہ تیری نے کیا کیا نہ کیا کاٹ گلشن میں ہنسی دیکھ کے اس گل کی یکایک حسرت سے گئے غنچوں کے یک لخت جگر پھاٹ اتنا بھی دیا صبر نہ اس نفس دنی کو کتے کی طرح بیٹھتا قسمت کا دیا چاٹ دھلوائیے کیا جامۂ عصیاں کو بساؤ چل کوچ میں دریا کے کنارے ہیں کھڑے ...

مزید پڑھیے

ہے مرے پہلو میں اور مجھ کو نظر آتا نہیں

ہے مرے پہلو میں اور مجھ کو نظر آتا نہیں اس پری کا سحر یارو کچھ کہا جاتا نہیں اشک کی بارش میں دل سے غم نکل آتا نہیں گھر سے باہر مینہ برسنے میں کوئی جاتا نہیں چاک جیب اپنے کو میں بھی جوں گریبان سحر ناصحا تا دامن محشر تو سلواتا نہیں شمع ساں رشتے پر الفت کے لگا دیتے ہیں سر عاشق اور ...

مزید پڑھیے

شب نہ یہ سردی سے یخ بستہ زمیں ہر طرف ہے

شب نہ یہ سردی سے یخ بستہ زمیں ہر طرف ہے مہ پکارے ہے فلک پروردگی تو برف ہے شاہ گل کا حکم سیاروں کے یہ ہے باغ میں جو نہ پی کر آئے مے نوکر نہیں بر طرف ہے سرخ ہے رومال شالی اس کے تحت الجنگ تک مصحف رخسار پر یا جدول شنگرف ہے نو خطوں کے دل میں جز مشق ستم طرز وفا یکسر مو ہو سکے کرسی نشیں ...

مزید پڑھیے

شورش سے چشم تر کی زبس غرق آب ہوں

شورش سے چشم تر کی زبس غرق آب ہوں دن رات بحر غم میں برنگ حباب ہوں یہ دور اب تو ہے کہ رقیبوں کی بزم میں تو مست ہو شراب سے اور میں کباب ہوں مجھ خوں گرفتہ پر مرے قاتل کمر نہ باندھ میں آپ اپنے قتل کا خواہاں شتاب ہوں ہر صبح و شام باغ میں صحرا میں جوں نسیم اس گل کی جستجو کی ہوس پر خراب ...

مزید پڑھیے

اے ہمدماں بھلاؤ نہ تم یاد رفتگاں

اے ہمدماں بھلاؤ نہ تم یاد رفتگاں واماندگاں کو ہے یہی ارشاد رفتگاں جو غنچہ ناشگفتہ ہی جھڑ جائے شاخ سے ہے اس چمن میں وہ دل ناشاد‌ رفتگاں چشم‌ و دل و جگر کے لئے اشک درد و داغ ہم پاس ہے یہ تحفہ‌ٔ امداد رفتگاں اس کارواں سرا میں یہ بانگ جرس نہیں ہے یہ صدائے نالہ و فریاد ...

مزید پڑھیے

ہو جس قدر کہ تجھ سے اے پر جفا جفا کر

ہو جس قدر کہ تجھ سے اے پر جفا جفا کر کہتا ہوں میں بھی تجھ سے اے با وفا وفا کر بیت الصنم میں جا کر ہمدم بہ رب کعبہ لایا ہوں اس صنم کو گھر تک خدا خدا کر گوہر جو اشک کے ہیں کچھ چشم کے صدف میں غلطاں نہ خاک میں کر آنسو بہا بہا کر مرتے ہیں ہم تو لیکن سن تیری آمد آمد امید نے رکھا ہے اب تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 428 سے 6203