کون وہ باتیں سنتا ہے جو فصل جنوں کے باب میں ہیں
کون وہ باتیں سنتا ہے جو فصل جنوں کے باب میں ہیں کس کس کو بیدار کروں سب سورج میرے خواب میں ہیں بپھرے پانی کی موجیں ہر گھر کی چھت پہ رقصاں ہیں خیر مناؤں کس کس کی سب شہر مرے سیلاب میں ہیں چونا گچ دیواروں میں جھانکو تو خرابے پاؤ گے میری طرح کتنے ہی یہاں سقراط مرے احباب میں ہیں کس ...