ہم وقت کے ہم سفر ہی ٹھہرے
ہم وقت کے ہم سفر ہی ٹھہرے کب تک کوئی اپنے گھر ہی ٹھہرے ہے کوکھ کوئی صدف نہیں ہے لازم تو نہیں گہر ہی ٹھہرے جی لیں گے وو لمحہ اوڑھ کر ہم اے کاش وو لمحہ بھر ہی ٹھہرے اونچی تھیں اڑانیں جن کی وہ بھی زندگیٔ بام و در ہی ٹھہرے اس شہر میں زندگی گراں ہے جو ٹھہرے وہ دار پر ہی ٹھہرے سورج ...